امریکا کی ایک جیوری نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور اِنہیں جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار کرنے کے الزام میں 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی ریاست نے بچوں کے تحفظ کے معاملے پر میٹا کے خلاف مقدمہ جیتا ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست نیو میکسیکو میں 6 ہفتے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد جیوری نے فیصلہ سنایا ہے۔
ریاستی حکام کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے صارفین، خصوصاً کم عمر بچوں کی حفاظت پر منافع کو ترجیح دی اور ریاست کے غیر منصفانہ تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق میٹا نے گمراہ کُن بیانات دیے اور ایسے تجارتی طریقے اپنائے جنہوں نے بچوں کی کم عمری اور ناتجربہ کاری سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔
مقدمے کے دوران 40 گواہوں کے بیانات اور سیکڑوں دستاویزات کا جائزہ بھی لیا گیا جن میں سابق ملازمین کے انکشافات بھی شامل تھے۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل توریس نے 2023ء میں کمپنی اور اس کے سربراہ مارک زکربرگ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق خفیہ تحقیقات میں 14 سال سے کم عمر بچوں کے جعلی اکاؤنٹس کو جنسی نوعیت کے پیغامات موصول ہوئے اور بالغ افراد نے غیر مناسب رابطے کی کوشش کی جس پر کئی افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بھی بنائے گئے۔
میٹا نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت کے حکم کے خلاف اپیل کرے گی، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
مقدمے کا دوسرا مرحلہ مئی میں شروع ہوگا جس میں عدالت ممکنہ اضافی جرمانوں اور کمپنی کی پالیسیوں میں تبدیلیوں پر غور کرے گی۔
ادھر کیلیفورنیا میں ایک الگ مقدمے میں جیوری اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا میٹا اور یوٹیوب بچوں کو نقصان پہنچانے اور پلیٹ فارمز کو حد سے زیادہ عادی بنانے کے الزامات کے ذمہ دار ہیں یا نہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رہورٹس میں ماہرین کا اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ کیس امریکا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف جاری ہزاروں مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔