عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے مذاکرات سے متعلق حالیہ بیان کے بعد سونے کی قیمت ایک ہی دن میں تقریباً 4 فیصد بڑھ کر 4,550 ڈالر فی اونس سے اوپر پہنچ گئی۔
یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل سے متعلق ایک ’پیشکش‘ کی ہے جسے ممکنہ امن مذاکرات کی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات جمعرات سے شروع ہو سکتے ہیں تاہم تہران کی جانب سے تاحال باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مارکیٹ کا فوری ردِعمل
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلسل نو روز کی گراوٹ کے بعد تاجروں نے اچانک اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر دی اور سونے کی خریداری بڑھ گئی۔
ماہرِ حکمتِ عملی نوین پی ایم ٹی نے بھارتی میڈیا ’این ڈی ٹی وی‘ سے گفتگو میں بتایا یہ اضافہ بنیادی اعتماد نہیں بلکہ خبروں کے اثر سے پیدا ہونے والی عارضی تیزی ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ مارکیٹ جنگی خدشات سے نکل کر امن کی امید کی طرف جا رہی ہے جس کے باعث شارٹ سیلنگ کرنے والے سرمایہ کاروں نے اپنی پوزیشنز بند کیں اور قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
بڑی تصویر اب بھی غیر واضح
اگرچہ حالیہ تیزی نمایاں ہے لیکن سونا جنوری 2026ء کی بلند ترین سطح 5,626 ڈالر فی اونس سے اب بھی تقریباً 20 فیصد نیچے ہے جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ سونے کی اصل سمت کیا ہے۔
سونا کیوں غیر متوقع رویہ دکھا رہا ہے؟
رپورٹس کے مطابق آگمنٹ ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر رینیشا چینانی کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جیو پولیٹیکل کشیدگی سے زیادہ ’لیکویڈیٹی‘ یعنی نقدی کی ضرورت مارکیٹ کو متاثر کر رہی ہے۔
اِن کے مطابق شدید مالی دباؤ کے دوران سرمایہ کار فوری نقد حاصل کرنے کے لیے سونا بھی فروخت کر دیتے ہیں جس سے روایتی محفوظ اثاثہ ہونے کے باوجود قیمتیں گر سکتی ہیں۔
شرح سود اور مہنگائی کا دباؤ
تیل کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھ رہی ہے جس کے باعث شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان ہے۔
زیادہ حقیقی منافع (ریئل ییلڈز) سونے پر دباؤ ڈالتا ہے کیونکہ سونا سود نہیں دیتا۔
مرکزی بینکوں کی حکمت عملی
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کے بعد مرکزی بینکس اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں تاہم وہ مجموعی طور پر اب بھی سونے کے خریدار ہیں تاکہ امریکی ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں ماہرین کا تازہ صورتحال پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود سونا اپنی بنیادی حیثیت نہیں کھو رہا، قلیل مدت میں یہ رسک اثاثہ جیسا دکھائی دے سکتا ہے مگر طویل مدت میں یہ اب بھی مہنگائی، کرنسی کمزوری اور عالمی مالیاتی خطرات کے خلاف ایک اہم تحفظ سمجھا جاتا ہے۔