• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کی خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے بنائی گئی حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ محکمے الرٹ رہیں اور برآمدات کے عمل کو تیز کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ملکی سطح پر اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے اور حکومتی اداروں میں فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی، جبکہ غفلت کے مرتکب افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ خلیجی ممالک کو برآمدات کے لیے قائم کمیٹی نے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے، جن میں چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت، پولٹری، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس تیار کر لیا گیا ہے جبکہ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

مزید بتایا گیا کہ برآمدات کے لیے فضائی اور بحری اوپن روٹس استعمال کیے جائیں گے اور خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز کا انعقاد جاری ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران بھی فعال رہیں جبکہ بندرگاہوں پر نقل و حمل کے نرخوں میں 60 فیصد تک کمی کی گئی ہے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کرایا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

قومی خبریں سے مزید