ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کی بروقت اور تعمیری پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
انور ابراہیم نے کہا کہ تنازع کے حل کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور خطے کے دیگر رہنماؤں کا آگے آنا قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے متعلقہ فریقین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے بامعنی مذاکرات کے لیے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہے، مذاکرات پہلے کی طرح ہوئے کئی جنگ بندی معاہدوں کی طرح وقتی فائدے کے لیے نہیں ہونے چاہیئں، اس خطے کو پہلے سے زیاہ زیادہ پائیدار حل کی ضرورت ہے۔
انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا بین الاقوامی قانون کے تحت ایران کی خود مختاری کے دفاع کےحق کی توثیق کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔
وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو فریقین تک پاکستان کی تعمیری سفارتی رسائی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی استحکام کیلئے فوری طور پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔
سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
سعودی ولی عہد نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔
اس سے قبل سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی تجویز ایران کے حوالے کردیں۔
برطانوی خبر ایجنسی نے سینئر ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکی تجویز ایران کے حوالے کردیں، تاہم سینئر ایرانی ذرائع نے امریکی تجویزکی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ذرائع کےمطابق ایران اور امریکا کےدرمیان ممکنہ مذاکرات کے مقام کا فیصلہ ہونا باقی ہے، ترکیہ اور پاکستان دونوں مذاکرات کے ممکنہ میزبان کے طور پر زیر غور ہیں۔