بلاشبہ افغان سرزمین عالمی طاقتوں کیلئے قبرستان ثابت ہوئی لیکن یہاں برپا ہونیوالے معرکوں میں کس کا کیا کردار رہا،یہ جاننا بہت ضروری ہے۔آج ہم اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روس کو کس نے شکست دی۔بریگیڈیئر یوسف اپنی کتاب ”The Bear Trap“میں لکھتے ہیں کہ سویت فوج کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد جنرل ضیانے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان کوایک اسیسمنٹ رپورٹ تیار کرنے کو کہا،تاکہ مستقبل کی حکمت عملی کا فیصلہ کیا جا سکے۔جنرل اختر عبدالرحمان نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ افغانستان کو روس کا ویت نام بنایا جا سکتا ہے،اور تجویز دی کہ عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے افغان گوریلا مجاہدین کی مدد کی جائے۔ ضیاالحق کے معتمد خاص جنرل خالد محمو دعارف کے مطابق ضیا نے امریکی صدر کارٹر کو طویل خط لکھ کر افغانستان سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیااور اپنے خدشات و مضمرات کا تفصیل سے ذکر کیا مگر کارٹر انتظامیہ نے کوئی خاص اہمیت نہ دی اور ان خدشات کو”اوور ری ایکشن“ کہہ کر مسترد کردیا۔کچھ عرصہ بعد جب امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو صورتحال سے نمٹنے کیلئے400ملین ڈالر کی فوجی امداد دینے کی پیشکش کی۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر برزنسکی نے اسے Seed Moneyیعنی”تخم زر“قرار دیا جسکا مطلب تھا کہ یہ دراصل امداد کا وہ بیج ہے جو بعد ازاں بڑھ کر تناور درخت بن جائیگا۔ مگر اب جنرل ضیاالحق کی باری تھی۔حکومت پاکستان نے اس امداد کو Peanutکہہ کر مسترد کردیا،یہ ذومعنی اصطلاح تھی کیونکہ امداد کم ہونے کے علاوہ اس میں صدر جمی کارٹر کے حوالے سے گہرا طنز پوشیدہ تھا جنکا ”مونگ پھلی“کا کاروبار تھا۔1980ء کے صدارتی انتخابات میں رونالڈ ریگن کامیاب ہوئے توامریکہ نے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کا درجہ دیدیا۔ ریگن نے پاکستان کی امداد میں دوگنا اضافہ کردیا۔سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے اشتراک سے افغان مجاہدین کو تربیت دی جانے لگی اور امریکہ کی طرف سے اسلحہ بھی فراہم ہونے لگا۔جنرل کے ایم عارف اپنی کتاب ”ورکنگ ود ضیا“کے صفحہ نمبر 383پر لکھتے ہیں کہ ستمبر 1981ء میں ایک معاہدے پر اتفاق رائے ہوگیا جسکی رو سے امریکہ پاکستان کو پانچ سال (یعنی 1982سے1987ء)میں 3.2بلین ڈالر کا دفاعی اور اقتصادی پیکیج دینے پر رضامند ہوگیا۔اس پیکیج میںاقتصادی امداد اورفوجی سازو سامان کی فروخت شامل تھی۔امریکی وزارت خارجہ کے انڈرسیکریٹری مسٹر جیمز بکلے(James Buckley)نے پاکستانی امداد کا یہ پیکیج کانگرس میں متعارف کروایا۔سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے سامنے شہادت دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’افغانستان میں سویت لشکر کشی کے بعد پاکستان کو ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کی ناگوار صورتحال میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ابتدا میں مجاہدین کو پرانے‘ قدیم اور متروک ہتھیار مہیا کئے گئے۔ ہتھیار فروخت کرنیوالے خوش تھے کہ بیکار اسلحہ سے ان کی جان چھوٹ گئی۔ خود سی آئی اے نے امریکی ٹیکس گزاروں کی رقوم سے ایسا اسلحہ خریدا جس سے روسی سپر پاور کو نہیں پچھاڑا جا سکتا تھا۔اس بات کا اعتراف مغربی دانشوروں نے بھی کیا ہے مثال کے طورپرفرانسیسی مصنف جین زیول نے اپنی کتاب”How Democrasies Parish“ کے صفحہ نمبر 291پر لکھا ہے کہ ”روسی فتح کے راستے میں اصل روک افغان مزاحمت کاروں کا عزم صمیم ہے۔ ہم مغرب والوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں‘ ہم نے انہیں نہایت ہی قلیل مدد دی۔“بریگیڈیئر یوسف لکھتے ہیں کہ ”1985ء میں سی آئی اے نے مصر سے اسلحہ خریدنا شروع کیا۔ میں پہلے جہازی سامان کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ جب صندوقوں کو کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ سارا سامان استعمال شدہ‘ زنگ آلود اور ناقابل مرمت ہے۔ کارتوس گل سڑ چکے تھے‘ داغنے والی گولیوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ 82mm کے 30 ہزار مارٹر بم ناکارہ ہو چکے تھے۔ ترکی سے 60ہزار رائفلیں‘ 8 ہزار ہلکی مشین گنیں‘ 10 ہزار پستول اور 100 ملین گولہ بارود زنگ آلود اور ناقابل استعمال تھا۔“اُدھر افغانستان میں سویت یونین کے خلاف ہو رہی مزاحمت کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری افغان صدر ببرک کارمل پر ڈال دی گئی۔افغان پولٹ بورو کا خیال تھا کہ جب تک ببرک کارمل کو نہیں ہٹایا جاتا حالات بہتر نہیں ہونگے۔پہلے کونسل آف منسٹرز کے چیئرمین یعنی وزیراعظم کا عہدہ ببرک کارمل سے لیکر سلطان علی کشتمند کو سونپ دیا گیا،پھر PDPA کے جنرل سیکریٹری کا منصب ببرک کارمل سے چھین کر ”خاد“کے چیف ڈاکٹر نجیب اللہ کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کا جنرل سیکریٹری بنادیا گیا اور پھر 13نومبر1986ء کو ببرک کارمل سے انقلابی کونسل کے چیئرمین کا عہدہ بھی واپس لے لیا گیا،یوں بے آبرو ہو کر ببرک کارمل کو ماسکو میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ بریگیڈیئر یوسف ،جو اکتوبر1983ء سے اگست 1987ء تک آئی ایس آئی کے افغان بیورو کے سربراہ رہے،لکھتے ہیں کہ میرے چار سالہ دور میں 80ہزار مجاہدین کو ٹریننگ دی گئی۔لاکھوں ٹن ایمونیشن اور اسلحہ تقسیم کیا گیا،اس لاجسٹک مشق پر کئی بلین ڈالر خرچ ہوئے ۔افغان مجاہدین جس لڑائی کو جہاد سمجھ کر لڑرہے تھے،وہ دراصل دو بڑی طاقتوں کی خفیہ اور سرد جنگ تھی۔سی آئی اے، آئی ایس آئی کے ذریعے افغان مجاہدین کو جو اسلحہ فراہم کر رہی تھی،وہ چین اور مصر کے علاوہ اسرائیل سے آرہا تھا۔آئی ایس آئی کے افغان بیورو کے سربراہ بریگیڈیئر یوسف کے مطابق انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ اسلحہ کی بڑی مقدار اسرائیل سے آرہی ہے۔اگر تب یہ بات کھل جاتی کہ اسرائیلی اسلحہ سے جہاد جیسی مقدس لڑائی لڑی جا رہی ہے تو عرب ممالک کو سنبھالنا بہت مشکل ہوجاتا۔قصہ مختصر یہ کہ بدمست ہاتھیوں کی لڑائی میں پاکستان نے منجھے ہوئے مہاوت کا کردار اداکیا جبکہ افغان گھاس کی طرح کچلے گئے۔