• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ کے اثرات: سری لنکا پھر معاشی دباؤ و ایندھن بحران کا شکار

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے سے سری لنکا میں ایندھن کی قلت اور مہنگائی میں تیزی آ گئی ہے جس نے عوام کو 2022ء کے معاشی بحران کی یاد دلا دی۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے  کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت محدود کر دی تھی جہاں سے سری لنکا اپنی توانائی کی 60 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے اور اس کے پاس صرف ایک ماہ کا ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے۔

سری لنکن حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے دوبارہ کیو آر کوڈ پر مبنی راشن نظام نافذ کر دیا ہے۔

نئے نظام کے تحت موٹر سائیکل کو ہفتہ وار 8 لیٹر، ٹُک ٹُک (رکشہ) کو 20 لیٹر، کار کو 25 لیٹر، بسوں کو 100 لیٹر ڈیزل اور لاریوں (ڈمپرز) کو 200 لیٹر ڈیزل دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ کھاد کی عالمی سپلائی متاثر ہونے سے سری لنکا میں خوراک کی قیمتیں بھی تقریباً 15 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

2022ء کے معاشی بحران میں سابق صدر گوٹابایا راجاپکسا کی حکومت پر غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو دیوالیہ کرنے کا الزام لگا تھا جس کے بعد عوامی احتجاج کے نتیجے میں انہیں ملک چھوڑنا پڑا، موجودہ صدر انورا ڈسانایاکے کی حکومت کو اب بیرونی حالات کے باعث نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

حکومتی ترجمان نالندا جیاتسا کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے پر بس کے کرایوں میں 12 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاہم قیمتیں کم ہونے پر کرایے بھی کم کیے جائیں گے۔

دوسری جانب سری لنکن عوام کا کہنا ہے کہ آمدن میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید