مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان جنگ کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے، جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی مقابلہ شدت اختیار کر گیا۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی ایک اے آئی سے تیار کردہ اینی میٹڈ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے ایک نئی میم وار کو جنم دے دیا ہے۔
یہ ویڈیو جسے ایرانی ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے، مشہور گانے لوزر LOSER کے ساتھ بنائی گئی ہے، اس میں ڈیجیٹل انداز میں ٹرمپ کو ماضی کے سفارتی اور عسکری فیصلوں پر ندامت ظاہر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ ویڈیو میں ان کی مبینہ ناکامیوں کی جھلکیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ کلپ ٹک ٹاک اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے، جہاں صارفین نے اس پر بے شمار میمز اور ردعمل بھی شیئر کیے ہیں۔
دوسری جانب، ایک حالیہ کابینہ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مہم کو نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار نئے معاہدے کے لیے منتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایران کو غیر سنجیدہ ریاست بھی کہا اور دعویٰ کیا کہ حالیہ مشترکہ حملوں میں اسے عسکری طور پر کمزور کر دیا گیا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیانات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر دراصل خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
یہ میم وار ناصرف تفریح کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ عالمی سیاست میں بیانیہ بنانے کا ایک طاقتور ہتھیار بھی بنتی جا رہی ہے۔