• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بذریعہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پاکستان کیخلاف ڈس انفارمیشن مہم بے نقاب

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 پاکستان کے خلاف ایک منظم اور اسٹریٹجک ڈس انفارمیشن مہم بے نقاب ہوئی ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ملک کے خلاف منفی بیانیہ پھیلایا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس مہم میں بھارت اور افغانستان کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں سے مبینہ طور پر متعدد جعلی اکاؤنٹس آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درجنوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایرانی شناخت کے ساتھ بنائے گئے ہیں، تاہم ان کی سرگرمیاں بھارت اور افغانستان سے چلائی جا رہی تھیں، ان اکاؤنٹس کے ذریعے ایران کے نام پر پاکستان کے خلاف منفی اور گمراہ کن مواد پھیلایا گیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس مہم کا آغاز آئی این این ایران نیوز اور ایران ٹی وی جیسے نام نہاد (گھوسٹ ایکس) اکاؤنٹس سے کیا گیا، جنہوں نے پاکستان کے خلاف مصنوعی ردعمل کو جنم دیا، بعد ازاں انہی بیانیوں کو افغانستان سے چلنے والے دیگر اکاؤنٹس کے ذریعے مزید پھیلایا گیا۔

اس ڈس انفارمیشن مہم میں پاکستان پر یہ جھوٹا الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ امریکا کو تیل کی ترسیل میں معاونت کر رہا ہے، جس کے ذریعے نفرت انگیز پروپیگنڈے کو تقویت دی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر متنازع بنانا اور اسے ایران مخالف و مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی ڈس انفارمیشن مہم ناصرف پاکستان بلکہ پورے عالمِ اسلام میں بداعتمادی، انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات طویل المدتی اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید