ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکا میں لاکھوں افراد دماغی تنزلی اور یادداشت ختم کرنیوالی بیماری ڈیمنشیا کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
اس وقت تقریباً 70 لاکھ امریکی ڈیمنشیا (دماغی تنزلی اور نسیان) کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ یہ تعداد 2050 تک دگنی ہو جائے گی۔ محققین اب تیزی سے طرز زندگی کی تبدیلیوں پر توجہ دے رہے ہیں جو اس بیماری سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تقریباً آدھے ڈیمنشیا کے کیسز طرز زندگی کے عوامل سے جڑے ہوتے ہیں، جس میں ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی، موٹاپا اور ٹائپ 2 ذیابیطس کی بیماری شامل ہے۔
امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی کی اس نئی تحقیق میں تقریباً 3 لاکھ امریکیوں کو دو سال تک فالو کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں ڈیمنشیا ہونے کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس ڈیمنشیا کے خطرے کو دگنا کر دیتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس اس حوالے سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس عام طور پر طرزز زندگی سے منسلک ہوتی ہے، جیسے ناقص خوراک اور موٹاپا جبکہ ٹائپ 1 ایک خودکار مدافعتی (آٹو امیون) بیماری ہے جس میں جسم خود انسولین بنانے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔
ٹائپ 2 عموماً بڑی عمر میں ظاہر ہوتی ہے، جبکہ ٹائپ 1 زیادہ تر بچپن میں شروع ہوتی ہے۔ امریکا میں ذیابیطس کے چار کروڑ مریضوں میں سے 90 سے 95 فیصد کیسز ٹائپ 2 کے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹائپ 1 نسبتاً کم عام ہے۔
تاہم، اب بھی 20 سے 40 لاکھ امریکی ٹائپ 1 ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں بعد میں ڈیمنشیا کا خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔ ٹائپ 1 کے کیسز میں ہر سال 3 سے 5 فیصد اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے، جس کی ممکنہ وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی اور بہتر تشخیص شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ ٹائپ 1 ذیابیطس ڈیمنشیا کے خطرے کو کیسے بڑھاتی ہے، لیکن خیال ہے کہ خون میں شوگر کی بار بار کمی اور زیادتی دماغ کے اہم حصے (ہپوکیمپس) میں سوزش اور خلیاتی نقصان کا باعث بنتی ہے۔
اس کے علاوہ انسولین کی شدید کمی دماغی خلیات کو توانائی سے محروم کر سکتی ہے اور نقصان دہ پروٹین (امیلوئڈ) کے جمع ہونے کا سبب بن سکتی ہے، جو ڈیمنشیا سے جڑے ہوتے ہیں۔ شوگر کی سطح میں اتار چڑھاؤ دماغ کی خون کی نالیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے ویسکولر ڈیمنشیا ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق جریدہ نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں 2 لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد شامل تھے جن کی اوسط عمر 65 سال تھی۔ تحقیق کے دوران 2,348 افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔
نتائج کے مطابق، ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ 2.8 گنا زیادہ جبکہ ٹائپ 2 میں تقریباً دگنا تھا، حتیٰ کہ عمر اور تعلیم جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹائپ 1 ذیابیطس کم عام ہے، لیکن بڑی عمر کے ان مریضوں میں اس کے اثرات کو سمجھنا اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنا نہایت ضروری ہے۔
اس تحقیقی ٹیم کی مرکزی مصنفہ اور بوسٹن یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے شعبہ ایپیڈیمولوجی کی پروفیسر جینیفر ویوو کے مطابق طبی نگہداشت میں ترقی کے باعث ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں کی عمر میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اب یہ سمجھنا زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ اس بیماری کا ڈیمنشیا کے خطرے سے کیا تعلق ہے۔ ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس ڈیمنشیا کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے، لیکن اس نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے یہ تعلق ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں اور بھی زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔
یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس کس طرح ڈیمنشیا کے خطرے کو بڑھاتی ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ خون میں شکر کی بار بار کمی اور زیادتی دماغ کے یادداشت کے مرکز ہیپو کیمپس میں سوزش اور خلیاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، ٹائپ 1 ذیابیطس کا ٹائپ 2 کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے جڑا ہونا محققین کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ ٹائپ 1 ذیابیطس کو روکا نہیں جا سکتا۔