امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سمجھوتا نہ ہونے کا اشارہ دے دیا، جبکہ ان کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ایران کے راضی ہونے کی امید ہے۔
کابینہ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی بھی لگادی کہ اگر جنگ بندی نہیں ہوئی تو ایران پر بے رحمی سے حملے کریں گے، اگر ایران جوہری خواہشات سے دست بردار نہیں ہوا تو یہ جنگ ان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوگی، ایرانیوں کے پاس جنگ بندی کا موقع ہے، جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے جلد سمجھوتا نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، ایران سمجھوتے کے لیے بھیک مانگ رہا ہے لیکن نہیں لگتا کہ امریکا ایسا کر پائے گا۔
امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ایران جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کر رہا ہے ، امریکا امن معاہدے کے لیے 15 نکاتی تجاویز دے چکا ۔ دیکھتے ہیں حالات کہاں جا کر رکتے ہیں ۔ ایران کو قائل کرلیا تو اس سے اچھا کوئی متبادل نہیں۔ ایران کے قائل ہونے کے مضبوط اشارے مل رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کردیا ہے، امریکا نے ایران کے ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کردیا، ایرانی نیوی اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کردیا، ایران کی عسکری قوت اور مواصلاتی نظام کو تباہ کردیا، حملہ نہ کرتے تو ایران دو تین ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ایران اب امریکا کے ساتھ ڈیل چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو ممالک نے کوئی مدد نہیں کی، ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، میں نے 25 سال پہلے بھی کہا تھا نیٹو کاغذی شیر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ ممالک پر حملے کر رہا ہے، ایران جنگ سے پریشان ہو کر خلیجی ممالک پر حملے کر رہا ہے، ایران نے خلیجی ممالک پر بمباری کی اور مشرق وسطی پر قبضے کا منصوبہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سمندری راستے سے منشیات امریکا آنے میں 98 فیصد کمی ہوئی، ہم نے 4 سے 6 ہفتوں میں نتائج حاصل کرنے کا اندازہ لگایا تھا، ایران میں مطلوبہ نتائج اندازوں سے پہلے حاصل کرلیے، جو آج ایران کے خلاف کیا ہے 47 سال پہلے ہونا چاہیے تھا۔
آبنائے ہُرمُز کھولنے کے لیے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن پر لچک کا اشارہ
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہُرمُز کھولنے کے لیے ایران کو جمعے تک کی دی گئی ڈیڈلائن پر لچک کا اشارہ دے دیا۔
ایک ہفتہ پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ نہ کھولنے پر خطرناک حملوں کی دھمکی دی تھی ۔ پچھلے پیر کو وہ ابتدائی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ایران امریکا مذاکرات کی راہ ہموار ہونے لگی تو ٹرمپ نے اُس ڈیڈلائن میں 5 دن کا اضافہ کردیا تھا۔
آج کابینہ اجلاس میں صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ جمعے کو ڈیڈلائن کے خاتمے پر وہ کیا کریں گے؟ تو ٹرمپ بولے انہیں ابھی تک نہیں پتا ۔ وہ وٹکوف، جے ڈی وینس اور جیرڈ کشنر سے پوچھیں گے، جو ایران سے مذاکرات کر رہے ہیں اور ویسے بھی ابھی تو بہت وقت پڑا ہے۔
ایران کی آئل سپلائی کو قبضے میں لینے کا بھِی ایک آپشن ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایران کی آئل سپلائی کو قبضے میں لینے کا بھی ایک آپشن ہے۔ امریکا وینزویلا میں یہ کرچکا ہے اور اربوں ڈالرز کما رہا ہے۔
بعد میں ٹرمپ نے کہا امریکا کو آبنائے ہُرمُز کی ضرورت نہیں۔ آبنائے کی بندش سے امریکا پر پڑنے والے اثرات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا امریکا کے پاس پہلے ہی بہت تیل ہے۔ امریکا کو آبنائے ہُرمُز سے فرق نہیں پڑتا۔ امریکا کے پاس سعودی عرب اور روس سے دُگنا تیل ہے۔ بہت جلد یہ تین گنا ہوجائے گا ۔
صدر ٹرمپ کا جرمن کو واضح پیغام
امریکی صدر نے جرمنی کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی جنگ جرمنی کی جنگ نہیں ہے، تو پھر یوکرین کی جنگ امریکا کی جنگ نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر جرمن قیادت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جرمن قیادت کے وہ الفاظ بہت نامناسب ہیں۔