• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید کادن تھا، ٹی وی سے نظر اس لئے نہیں ہٹ رہی تھی کہ سامنے ایران پر حملےپر اسرائیل کو شاباش دینے کیلئے ٹرمپ صاحب حکم بھی دے رہے تھے اور تبصرہ بھی بے دھڑک اور بلا سبب کیے جارہے تھے ،ٹی وی اسکرین پر ایک دم ایک خبر پڑھنے والے نے سنایا کہ شیری رحمان کی35سالہ بیٹی ماروی ملک برین ہیمرج سے چل بسی ہے۔ مجھے سکتہ ساہوگیا۔ یہ لڑکی عید کے دن ماں سے جداہورہی تھی۔ شیری کی روتی ہوئی شکل مجھے بار بار یاد آرہی تھی کہ اسکرین پر ہٹلر بنے ٹرمپ پھر بول رہے تھے ’’میں نے ایران کے سارے اہم اشخاص کو فنا کردیا ہے۔ اب ان میںسے کون رہنما رہ گیا ہے کہ ایران کی حکومت کی جانب سے بات کرےگا‘‘۔کوئی شرمندگی ٹرمپ کے چہرے پر نہیں تھی۔

47 سال تک میں نے ایران میں مذہبی درشتی کی انتہا دیکھی تھی۔ عورت کولباس کے سلسلے میں سخت پابندیوں اور سزاؤں کا سامنارہا۔ مگر اس دوران ہمارے عظیم شعرا کے مزارات کی خوبصورت عمارتوں کے سامنے آنیوالے ہر شخص کو ٹھہر کے آیات اور ابیات پڑھنے پہ مائل کرتے تھے۔ عالمگیر شہرت یافتہ نظریہ وحدت الوجود کے خالق شیخ اکبر بن عربی نے تمام مذاہب اور فلسفیوں سے استفادہ کیا آپ نے نہ صرف افلاطون کے فلسفہ اشراق اور ہر فلسفے کو کھنگالا بلکہ آپ کے نظریہ وحدت الوجود کی آفاقیت نے پوری دنیا کے افکار کو متاثر کیا۔

آگے بڑھیں فردوسی کے شاہ نامے کو دیکھیں ،عظیم ترین رزمیہ ساٹھ ہزاراشعار پر مبنی شاہ نامہ ، منفرد حیثیت میں کیسے لکھا گیا ۔ اسکی شان نزول بہت دلچسپ ہے۔ یہ کتاب ایرانی داستانوں، قدیم تاریخ، تہذیب و ثقافت اور بادشاہوں کے کارناموں کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ اب آئیے مثنوی مولائے روم کی طرف جسے عقیدت کی حد تک کہا جاتا ہے کہ ’’ ہست قرآں درزبانِ پہلوی‘‘۔ یوں تو رومی نے کئی کتابیں لکھیں۔ جن میں انکا دیوان جو شمس تبریز کے نام سے مشہور ہے۔ وہ پچاس ہزار اشعار پہ مشتمل ہے۔ لیکن جو شہرت اورابدیت رومی کی مثنوی کو حاصل ہے وہ بے شک ہے۔پلٹ کر دیوان حافظ کی وہ جلد اٹھاتی ہوں جو مجھے اظہار الحق نے محبت اور عقیدت کے ساتھ عطا کی تھی۔ یہ وہی دیوان ہے جو فال نکالنے کےکام بھی آتا تھا۔ حافظ اور رومی کے بعد، فردوسی، شیخ سعدی اور عمر خیام ایسے شاعر ہیں جو عالمگیر شہرت اور تراجم میں موجود ہیں ۔ کہتے ہیں کہ امیر تیمور نے حافظ شیرازی کو بلاکر کہا ’’میں نے ایک عالم کوتاخت وتاراج کیا کہ اپنے وطن سمر قند اور بخارا کو آباد کروں۔ ادھر تم ہو کہ ایک تِل کے بدلے یہ شہردے رہے ہو۔ حافظ نے جواب میں کہا ایسی ہی فضول خرچی کی وجہ سے فقرو فاقے تک نوبت پہنچی ہے۔اتنا لکھا تھا کہ سامنے ٹی وی دکھارہا تھا کہ اسرائیل ایران کے خوبصورت شہروں کے بچوں کو بھی ڈرونز اور شدید بمباری سے برباد کررہا ہے، اسرائیل شرمندہ نہیں۔

اسکرین پرپھر ٹرمپ کہہ رہا تھا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل تعمیری کردار ادا کررہے ہیں اور پاکستان کو مذاکرات کامرکز بنانے کیلئے اچھا موقع ہے۔ جبکہ ایران کہہ رہا ہے کہ ہمارے نقصانات کا ازالہ کیا جائے تو ہم بات چیت کا سوچ سکتے ہیں۔ ادھر ٹرمپ ان حملوں کی ذمہ داری اسرائیل کے ساتھ امریکی فوجی سربراہ پر ڈالتے ہوئے اپنی ذمہ داری تسلیم نہیں کررہے۔ ٹرمپ صاحب بولے چلے جارہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جتنے ممالک ہیں وہ تیل کی دولت سے مالامال ہیں وہ اپنی سرحدوں کو امریکی مسلح دستوں کی نگہبانی میں دیکر آزاد ہوکر، خو ش رہتے تھے مگر ایران نے ان سارے فوجی دستوں کو اڑا دینے کیلئےبمباری کی اور سب نے چیخ وپکار مچائی کہ ایران سے توہماری دشمنی نہیں مگر وہ ہماری سرحدوں پر حملے کررہا ہے۔ فروری سے شروع ہوئے اس جنگی معرکے میں ایران کے آیت اللہ خامنہ ای کے علاوہ 40سے زائد رہنماؤں کو شہید کرتے ہوئےاسرائیل امریکہ بہت فخر محسوس کررہےتھے۔47سال پہلے جب ایران میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ نے ایران کو مذہبی اسٹیٹ بنایااور خواتین پہ ایسی پابندیاں لگائیں کہ بہت سی عورتوں کو قتل یا جیل کا پابند کیاگیا۔ ہر چند خواتین پر تعلیم کی بندش نہیں لگائی مگر سر سے چادر کاہٹنا،انکا جرم بن جاتا تھا۔ بہت سے خاندانوں نے ملک بدری قبول کی۔ شہلاہائری بہت بڑی مصنف ہےاس نے ایران کے رسوم ورواج،متعہ جیسی رسموں پہ معترض ہوکر کئی کتابیں لکھی ہیں ۔عورتوں پر سختیاں اس سارے زمانے میں بڑھتی ہی گئیں۔ لیکن آج کے زمانے میں اسرائیل کے حملوں کے دوران عوام نے ملک چھوڑنے کا نہیں سوچا، بلکہ کچھ دکانوں نے بورڈ لگادیے کہ اگر آپ کے پاس رقم نہیں تو ادھار پرسامان لے جائیں جب امن ہوگا توادائیگی کردیں۔ ایران میں سارے فرقے متحد ہیں اور بہادری سے دشمن کا سامنا کررہے ہیں۔شیعہ برادریاں توساری دنیا میں ہیں مگر وہ سختیاں جو عورتوں پر ایران میں ہیںوہ کہیں اور نہیں۔کمال یہ ہے کہ ان تمام پابندیوں کے باوجود ایرانی فلموں نے آسکر حاصل کیے اور پابندیوں کے اندر رہ کر ہی فنون لطیفہ میں عالمی سطح پر ملک کانام روشن کیا۔یہ بھی ہوا کہ کچھ فلم سازوں کوزنداں میں بند کیاگیا ۔ اس لمحہ موجود جنگ سے فارغ ہوکر، مذہب کو انسانی سطح پر،اپنے نبی پاکﷺ کے حضور، حضرت فاطمہؓ اور حضرت زینبؓ کی طرح آزادی اظہار اور ہمت کو دوبارہ روشن کریں۔

ابھی ٹرمپ کی بولنے کی رفتار جاری ہےکوئی احساس ندامت نہیں۔البتہ مذاکرات کی مشکل سطح پر توقع ہے کہ پاکستان کو یہ وقار اور انسانی عظمت حاصل ہوگی۔ نیتن یاہو کو لاکھوں فلسطینیوں کو بے کفن قبر میں اتارنے کے جرم کی کوئی شرمندگی بھی نہیں۔

تازہ ترین