اس وقت جب مسلم دنیا کے اکثر ممالک صہیونی اور دیگر مسلم دشمن قوتوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کی یاد ستا رہی ہے کہ کیسے انہوں نے مسلم دنیا کے اتحاد و تحفظ کیلئے کام کیا۔جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے تو انہوں نے مسلم دنیا کیلئےکیا کچھ نہیں کیا۔ میں اس بات کی ابتدا بھٹو کے اس کارنامے سے کرنا چاہتا ہوں کہ جب بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے تو انہوں نے لاہور میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا، یہ بھٹو کی دانش کی ایک ایسی بے مثال کارروائی ثابت ہوئی جسکے نتیجے میں یہ طے کیا گیا کہ سمندری علاقوں کے جن حصوں سے مسلم ممالک تیل نکالتے ہیں وہی یہ فیصلہ کریں گے کہ اس تیل کے مالک کون سےملک ہیں اور وہ یہ تیل کس طریقے سے دنیا کے مختلف حصوں کو فروخت کریں۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اس کانفرنس میں بھٹو نے یہ تجویز رکھی کہ جو مسلم ممالک ان سمندری علاقوں سے تیل حاصل کرتے ہیں وہ اس تیل کا نرخ خود مقرر کریں حالانکہ اس وقت اس تیل کو سمندری علاقوں سے حاصل کرکے امریکہ یہ تیل اپنے مقرر کردہ نرخوں پر دنیا کو فروخت کرتا تھا۔ مسلم ممالک کے جو سربراہان کانفرنس میں شرکت کررہے تھے انہوں نے بھٹو کی اس تجویز کو نہ فقط فوری طور پر منظور کیا بلکہ طے کیا کہ جن مسلم ممالک کے نزدیک سمندری علاقوں سے تیل حاصل کیا جاتا ہےوہی اس تیل کے مالک ہیں اوراس تیل کے نرخ مسلم ممالک کی کمیٹی ہی مقرر کرے گی۔ یہ فیصلہ جب باہر آیا تو امریکا جوبھٹو کے کچھ فیصلوں سے پہلے ہی ناراض تھا وہ اس فیصلے کے بعد بھٹو کا شدید مخالف ہوگیا۔بعض اطلاعات کے مطابق اس واقعہ کے بعد امریکہ اس حد تک بھٹو کا مخالف ہوگیا کہ ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو پیغام بھیجے گئے کہ بھٹو سے ہماری جان چھڑائو مگر جب ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ملاقات ہوئی تو اندرا گاندھی بھٹو سے بہت متاثر ہوئیں۔ان دنوں ہندوستان سے دو تین سینئر صحافی پاکستان کے دورے پر کراچی آئے، وہ کراچی پریس کلب بھی آئے رات کو ڈنر سے پہلے ہندوستان سے آئے ان صحافیوں اور کراچی کے صحافیوں کے درمیان بڑی دلچسپ گفتگو ہوئی۔ایک مرحلے پر ہندوستان کے ایک سینئر صحافی نے بتایا کہ وہ کئی ملکوں خاص طور پر کچھ اہم اسلامی ممالک کے سربراہوں کی دعوت پر ان ملکوں کے دورے کرتا رہا ہےان میں سے انہوں نے خاص طور پر لیبیا اور اس کے سربراہ کرنل قذافی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جب بھی لیبیا جاتے تھے تو ایک دو دن کرنل قذافی کے مہمان ہوتے تھے۔
ایک بار کھانا کھانے سے پہلے وہ اور کرنل قذافی مختلف ایشوز پر گپ شپ کررہے تھے تو ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر نکلا۔ ہندوستان کے اس سینئر صحافی نے بتایا کہ بھٹو کا ذکر نکلتےہی کرنل قذافی کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ایک منٹ رکو یہ کہہ کر قذافی اپنے کمرے میں گئے اور وہاں سےایک فائل لیکر آئے اور مجھے وہ فائل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مسلم ممالک کے سربراہوں کو بھٹو کے بارے میں ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے لکھا ہوا ایک لیٹر ہے یہ کہہ کر قذافی نے اس ہندوستانی صحافی کو کہا کہ وہ یہ لیٹر پڑھیں۔ اس ہندوستانی صحافی نے وہیں پر یہ لیٹر پڑھا اور بعد میں انہوں نے پریس کلب میں بیٹھے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ اس لیٹر کے ذریعے اندرا گاندھی نے مسلم ممالک کے سربراہوں سے گزارش کی کہ پاکستان کی حکومت کسی وقت بھی بھٹو کو پھانسی دے سکتی ہے وہ پھانسی کو روکیں کیونکہ بھٹو نہ صرف مسلم ممالک بلکہ تیسری دنیا کے ملکوں کیلئےایک بڑا اثاثہ ہیں۔ وہ ایسا کوئی لیٹر پاکستان کے سربراہ کو نہیں لکھ سکتیں کیونکہ ’’بقول‘‘ ان کے ان کا لیٹر پاکستان پہنچے گاتو اسی وقت پاکستان کی حکومت بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دے گی۔
اس مرحلے پر میں ایک اہم بات کا بھی یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جب ہندوستان اور پاکستان کی جنگ ہوئی جسکے نتیجے میں بنگلا دیش ایک الگ ملک بن گیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کا ایک وسیع علاقہ ہندوستان کے قبضے میں آگیا تو ساتھ ہی پاکستان کے تقریباً 90 ہزار جنگی قیدی ہندوستان میں قید ہوگئے ۔ بھٹو اس معاملےپر بات چیت کیلئے سرکاری وفد لیکر ہندوستان گئے اس دورے میں بے نظیر بھٹو جو ابھی چھوٹی تھیں، بھٹو ان کو بھی وفد میں ہندوستان لے گئے اس دورے میں اندرا گاندھی اور بھٹو کی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بھٹو کے ہندوستان کے اس دورے کے حوالے سے جب پاکستان کے چند سینئر ترین سفارتی حلقوں سے بات چیت ہوئی تو انکی طرف سے کچھ بہت اہم انکشافات کئے گئے۔ ان کے مطابق اندرا گاندھی بھٹو کی ایک تجویز سے بہت متاثر ہوئیں۔ بھٹو نے ایک اہم تجویز دی کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں سویلین ملک ہیںدونوں کے درمیان تعلقات مثالی ہونے چاہئیں۔ اس سلسلے میں بھٹو نے خاص طور پر یہ بات کہی کہ ہم دونوں سویلین ملکوں کو اس قسم کے تنازعات کو حل کرنے میں ٹھنڈے مزاج اور سویلین سوچ کے ساتھ ایسے ایشوز کا حل نکالنا چاہئے۔ اس مرحلے پر بھٹو نے خاص طور پر یہ کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم خود اس تنازع کو باہمی بات چیت کے ذریعے طے کریں اور غیر سیاسی عناصر کو مداخلت کا موقع نہیں فراہم کرنا چاہئے۔یہ تجویز اندرا گاندھی کو بہت پسند آئی۔