برطانیہ نے روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے اپنی افواج کے اختیارات میں اضافہ کر دیا۔
برطانیہ نے اپنی افواج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ برطانوی پانیوں سے گزرنے والے پابندی زدہ جہازوں کو روک کر ان پر چڑھ سکیں۔
اس اقدام کا مقصد روس کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو کم کرنا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ہیلسنکی میں جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس کے اجلاس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنی سلامتی کے تحفظ اور یوکرین کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
حکام کے مطابق برطانیہ کی بحریہ پہلے ہی اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر مشتبہ روسی جہازوں کی نگرانی کر رہی ہے، نئے اقدامات کے تحت ایسے جہازوں کے لیے برطانوی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی، جس سے انہیں طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں یا کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم روس کے اس خفیہ بحری نیٹ ورک کے خلاف ہے جو تیل کی ترسیل کے ذریعے جنگی اخراجات پورے کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس سلسلے میں برطانیہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی متعدد روسی جہازوں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ولادیمیر پوٹین کی پالیسیوں کا مقابلہ جاری رکھا جائے گا اور برطانیہ یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔