• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں مستقل قیام نہ کرنیوالے یورپی شہریوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانوی حکومت نے بریگزٹ معاہدہ ختم ہونے کے بعد یورپی یونین کے ایسے شہری جو مسلسل اب برطانیہ میں مستقل قیام نہیں کر رہے، ان کے رہائشی حقوق ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ اقدام 2020ء کے بریگزٹ انخلاء معاہدے کے تحت قانونی عمل قرار دیا گیا ہے۔

سفری ڈیٹا کو جزوی طور پر غیر حاضریوں کا تعین کرنے کے لیے استعمال کرنے کے فیصلے نے ایچ ایم آر سی کی ناکامی کے بعد کئی خدشات کو جنم دیا ہے جس میں ہوم آفس کے سرحدی ڈیٹا کے غلط ہونے کی وجہ سے تقریباً 20 ہزار سے زائد والدین کو چائلڈ فوائد سے محروم ہونا پڑا۔

برطانوی ہوم آفس نے کہا ہے کہ کریک ڈاؤن کا مقصد ان لوگوں کے لیے تھا جنہوں نے بریگزٹ سے قبل برطانیہ میں رہنے کے لیے پری سیٹلڈ اسٹیٹس حاصل کیا تھا، یہ اسٹیٹس ہر اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو 5 سال سے کم عرصے سے برطانیہ میں رہائش پزیر تھا۔

اب ایسے لوگ ریڈار پر ہو سکتے ہیں جو 5 سال سے زیادہ پہلے ملک چھوڑ چکے ہیں، ان کے بارے میں طویل غیر حاضری کی وجوہات پر غور سمیت حفاظتی اقدامات ہوں گے۔ 

ہوم آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے امیگریشن اسٹیٹس کے لیے درخواست دینے والے 6.2 ملین میں سے 1.4 ملین اب بھی پری سیٹل اسٹیٹس پر ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید