برطانوی سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود کی امیگریشن اصلاحات کوششوں میں بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
برطانیہ میں پناہ کے لیے اپنی درخواستوں پر سماعت کے منتظر بہت بڑی تعداد سے نمٹنے کے لیے جہاں حکومت وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے وہیں مہاجر مہم چلانے والوں کی طرف سے نئے قانونی چیلنجز کی وجہ سے سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود کی امیگریشن اصلاحات کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق شبانہ محمود امیگریشن اصلاحات کو لیکر مشکلات میں گھری ہوئی نظر آتی ہیں۔
تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے مہم چلانے والوں کی طرف سے بڑا قانونی چیلنج کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ہوم سیکریٹری کا منصوبہ ہے کہ تارکینِ وطن کو برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے کے حق کا طویل انتظار کرایا جائے مگر لیبر پارٹی کے بائیں بازو کی جانب سے منصوبوں کی بڑھتی ہوئی مخالفت ان کی کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔
غیر ملکی کارکنان اور تارکینِ وطن کو برطانیہ میں مستقل آبادکاری کی درخواست دینے کے لیے 5 سال تک قانونی طور پر ملک میں مقیم رہنا ضروری ہے مگر اب نومبر میں منظرِ عام پر آنے والے منصوبوں میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کو 10 سال اور مہاجرین کے لیے 20 سال تک بڑھایا جائے گا۔
شبانہ محمود اس لیے تبدیلیوں کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ اگلے سال آئی ایل آر یعنی سابقہ قوانین کے تحت اہل ہونے والے ہیں۔