• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ چند سفارتی جملوں، خفیہ ملاقاتوں اور غیر علانیہ یقین دہانیوں تک محدود ہو چکا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی چھ شرائط اور امریکہ کی طرف سے سامنے آنیوالی تجاویز بظاہر ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی تضادات کے اندر مفاہمت کی ایک باریک سی راہ موجود ہوتی ہے۔عالمی سیاست کا اصول بھی یہی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر ان نکات پر ختم ہوتی ہیں جنہیں ابتدا میں ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ایران کی شرائط کو اگر غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے تو وہ تین بنیادی نکات کے گرد گھومتی ہیں: سلامتی کی ضمانت، علاقائی اثر و رسوخ کا تحفظ اور معاشی و سیاسی نقصان کا ازالہ۔جنگ کے دوبارہ نہ ہونے کی قانونی ضمانت دراصل ایران کے اس عدم اعتماد کی عکاسی ہے جو اسے مغربی طاقتوں کے ساتھ ماضی کے تجربات سے ملا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ سے امریکی فوجی اڈوں کی بندش کا مطالبہ بظاہر غیر حقیقت پسندانہ لگتا ہے، مگر یہ ایک بڑی مانگ رکھ کر کم پر راضی ہونے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔آبنائے ہرمز کیلئے نئے قانونی ڈھانچے اور خطے میں جاری پراکسی جنگوں کے خاتمے کی بات دراصل ایران کے اس بڑے بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ خود کو ایک تسلیم شدہ علاقائی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ ہرجانے کا مطالبہ اور میڈیا کیخلاف کارروائی کی شرط معلوماتی جنگ کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔دوسری طرف امریکہ کی ممکنہ تجاویز نسبتاً عملی مگر سخت ہیں۔ ان میں ایران کے جوہری پروگرام پر نگرانی، خطے میں اسکے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں پر قدغن، اور سمندری راستوں کی آزادی جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کیلئے اصل مسئلہ ایران کا علاقائی نیٹ ورک ہے، اسلیے اسکی حکمت عملی ایران کو ایک محدود کردار تک رکھنے پر مرکوز ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنگ بندی ممکن ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ فوری اور مکمل جنگ بندی کا امکان کم ہے، مگر محدود سطح پر کشیدگی کم ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ اکثر ایسے تنازعات میں مرحلہ وار پیش رفت ہوتی ہے، جہاں پہلے تناؤ کم کیا جاتا ہے اور پھر بڑے مسائل پر بات ہوتی ہے۔اسی مرحلے پر پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس بار صورتحال اسلئے مختلف ہے کہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے کردار کا ذکر اور ایران کی طرف سے اس چینل کو قبول کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد ایک سفارتی پل کے طور پر ابھرا ہے۔پاکستان کی یہ پوزیشن ایک متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ روابط کو بھی قائم رکھا گیا۔اسی توازن نے پاکستان کو اس قابل بنایاہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار بن سکے۔اس پورے عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار ایک اسٹرٹیجک مفکر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ انکے نتائج مذاکرات کی میز پر طے ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے دفاعی مضبوطی کے ساتھ ساتھ سفارتی توازن کو بھی برقرار رکھا، جو کسی بھی ریاست کیلئے ایک اہم خصوصیت ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف اس منظرنامے میں ایک ایسے منتظم کے طور پر دکھائی دیئے جو داخلی استحکام اور خارجی توازن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ ان کی حکومت کیلئے یہ حقیقت اہم ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بڑھتی ہے تو اسکے معاشی اثرات پاکستان جیسے ممالک پر براہِ راست پڑتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی دباؤ جیسے عوامل معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔مگر اس پوری صورتحال میں محسن نقوی کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بطور وزیر داخلہ انکی ذمہ داریاں بظاہر داخلی نوعیت کی ہیں، مگر حالیہ پیش رفت میں انہوں نے غیر رسمی سفارتی رابطوں کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا جس سے پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک قابلِ اعتماد چینل وجود میں آگیا۔انکا کردار پس پردہ ضرور ہے، مگر یہی وہ سطح ہوتی ہے جہاں بڑے فیصلوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اعتماد سازی، رابطوں کا تسلسل اور خاموش سفارتکاری ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑے تنازع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔عالمی معیشت کے تناظر میں اس صورتحال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ اسی لیے بڑی طاقتیں اس تنازع کو مکمل جنگ میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں اپنی تمام شرائط منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تاہم سفارتکاری کا مقصدہی یہی ہوتاہے کہ ایک درمیانی راستہ نکالا جائے۔ موجودہ صورتحال ایک جزوی مفاہمت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں فوری جنگ بندی کے بجائے کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا جائیگا۔آخرکار مشرقِ وسطیٰ ایک نازک توازن کی حالت میں ہے، جہاں ایک چھوٹا واقعہ جنگ کو بھڑکا سکتا ہے اور ایک چھوٹا سفارتی قدم امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اس تمام منظرنامے میں پاکستان کا کردار اہم اور ممکنہ طور پر تاریخی بن سکتا ہے۔اگر آنے والے دنوں میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کا سہرا صرف بڑی طاقتوں کو نہیں بلکہ ان ممالک کو بھی جائیگا جنہوں نے خاموشی سے جنگ اور امن کے درمیان پل بنانے کی کوشش کی۔ پاکستان اس وقت اسی پل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور یہی اسکی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تازہ ترین