• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرق وسطیٰ جنگ: کراچی پورٹ ٹرانس شپمنٹ شپنگ کیلئے توجہ کا مرکز بن گئی

کراچی پورٹ(فائل فوٹو)۔
کراچی پورٹ(فائل فوٹو)۔

مشرق وسطیٰ میں بحران کے سبب کراچی پورٹ شپنگ کیلئے توجہ کا مرکز بن گئی۔ کراچی پورٹ نے رواں ماہ کے صرف 24 دنوں میں گزشتہ پورے سال کی ٹرانس شپمنٹ سے زائد ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز ہینڈل کیے۔

کہتے ہیں کہ جنگ الگ طرح کے کاروباری مواقع پیدا کرتی ہے کچھ یوں ہی کراچی پورٹ کے ساتھ ہوا۔ 

واضح رہے کہ کراچی خلیج فارس سے قریب تر پورٹ ہے اور سیکڑوں جہاز لاکھوں کنٹینرز  لیے خلیج فارس سے باہر آبنائے ہرمز کے کھلنے کے منتظر ہیں۔

 اور ایسے میں کچھ عرصے کے لیے کنٹینرز کراچی پورٹ پر رکھنے سے جہاز نہ چلنے کے نقصان سے بچنا ترجیح ہے، یوں کراچی پورٹ ترجیح بن رہی ہے اور کنٹینرز رکھ رکھ کر جانے کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے۔

لہٰذا گزشتہ پورے سال ٹرانسشپمنٹ کے 8300 کنٹینرز آئے تھے، جبکہ اب صرف 24 دن میں کنٹینر ہینڈلنگ 8313 کنٹینرز کی ہوگئی ہے۔

صرف کراچی بندرگاہ ہی نہیں بلکہ پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ بھی خلیج کی اہم بندرگاہوں کے مقابل آنے کے ساتھ ٹرانسشپمنٹ کیلیے عالمی شپنگ لائنز کے نوٹس میں آگئی ہیں۔

ایران جنگ کے دوران کاروبار مندی ہونے کی بازگشت ہے لیکن پاکستان کے پورٹس سیکٹر میں کاروباری سرگرمی زور پکڑ رہی ہے۔

قومی خبریں سے مزید
تجارتی خبریں سے مزید