مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ابوظبی میں فرانس کے عالمی شہرت یافتہ میوزیم لوور کے فن پارے بچ گئے، یہ فن پارے فرانس سے عارضی طور پر نمائش کے لیے لائے گئے تھے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ابوظبی کے اندر 2017 میں کھلنے والا لوور میوزیم واحد بیرونِ ملک شاخ ہے۔ اب تک 28 فروری سے جاری تنازع کے دوران ایران کی جانب سے کیے گئے تقریباً 18 ہزار ڈرون اور میزائل حملوں کے باوجود محفوظ رہا ہے۔
میوزیم کے فن پاروں کو فرانسیسی فوج کے بیس میں منتقل کیا جانا تھا تاہم ایرانی حملوں سے بچاؤ کیلئے فن پاروں کو فرانسیسی فوج کے گودام میں منتقل کیا جانا تھا۔
ابوظبی میں ایرانی حملوں نے فرانسیسی فوج اڈے کو ہی تباہ کر دیا۔ فرانسیسی بیس حملے میں جنگ کے آغاز پر یکم مارچ کو جل کر خاکستر ہوگیا تھا، فن پاروں کی منتقلی میں تاخیر سے عالمی شہریت یافتہ آرٹ ورک بچ گیا۔
فرانسیسی وزارتِ ثقافت کے مطابق حکام متحدہ عرب امارات کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ان قیمتی نوادرات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت فرانس نے فنی مہارت، آرٹ ورک کی فراہمی اور نمائشوں کے انعقاد کا وعدہ کیا تھا، جس کے بدلے تقریباً ایک ارب یورو کی ادائیگی ہوئی جس میں 400 ملین یورو صرف ’لوور‘ نام کے استعمال کے لائسنس کے لیے تھے۔ یہ معاہدہ 2021 میں بڑھا کر 2047 تک کر دیا گیا، جس کے لیے مزید 165 ملین یورو ادا کیے گئے۔
میوزیم ذرائع کے مطابق عمارت کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ سیکیورٹی خطرات اور قدرتی آفات دونوں سے فن پاروں کو محفوظ رکھ سکے، تاہم جنگی صورتحال کے پیش نظر خدشات برقرار ہیں۔