• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز بحران: کیا سعودی، اماراتی اور عراقی پائپ لائنز عالمی تیل سپلائی بچا سکتی ہیں؟

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس کے باعث عالمی تیل و گیس منڈیوں پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہونے سے توانائی کی عالمی ترسیل متاثر ہو رہی ہے کیونکہ عام حالات میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کیا ہوا؟

2 مارچ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر مشیر ابراہیم جباری نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور بغیر اجازت گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا، اس اعلان کے بعد بحری آمد و رفت میں 95 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے۔

بعد ازاں ایران نے بیان دیا کہ راستہ مکمل بند نہیں تاہم امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں پر پابندی ہے اور ہر جہاز کو تہران سے اجازت لینا ہو گی، اس وقت تقریباً 2000 جہاز آبنائے کے دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں۔

متبادل راستے: 3 اہم آئل پائپ لائنیں

’الجزیرہ‘ کے مطابق خلیجی ممالک اب سمندری راستے کے بجائے زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن

یہ پائپ لائن سعودی کمپنی آرامکو چلاتی ہے اور تقریباً 1200 کلو میٹر طویل ہے جو خلیج کے قریب ابقیق سے بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک جاتی ہے۔

اس کی گنجائش تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ برآمدات کے لیے دستیاب مقدار تقریباً 5 ملین بیرل یومیہ ہے۔

اس لائن سے حالیہ ہفتوں میں ترسیل 770000 بیرل یومیہ سے بڑھ کر 2.9 ملین بیرل یومیہ ہو گئی ہے تاہم خطرہ یہ ہے کہ یمن کے حوثی باغی باب المندب آبنائے میں حملے کر سکتے ہیں جس سے بحیرۂ احمر کا راستہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

امارات کی ابو ظہبی کروڈ آئل پائپ لائن

یہ پائپ لائن حبشان سے فجیرہ بندرگاہ تک جاتی ہے، یہ پائپ لائن 2012ء میں فعال ہوئی تھی۔

اس کی گنجائش 1.5 ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ مارچ میں فجیرہ سے برآمدات بڑھ کر 1.62 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔

یہ راستہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتا ہے اس لیے موجودہ بحران میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

عراق۔ترکیہ کرکوک۔جیہان پائپ لائن

یہ پائپ لائن عراق کو ترکیہ کے بحیرۂ روم کے ساحل سے ملاتی ہے۔

اس کی گنجائش 1.6 ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ موجودہ ترسیل تقریباً 200000 بیرل یومیہ بتائی جاتی ہے۔

عراق اوپیک کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور روزانہ 4 ملین بیرل سے زائد تیل پیدا کرتا ہے۔

کیا یہ پائپ لائنز ہرمز کا متبادل بن سکتی ہیں؟

’الجزیرہ‘ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سوال کا جواب ’نہیں‘ ہے۔ 

تینوں پائپ لائنز کی مجموعی گنجائش تقریباً 9 ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا تھا۔

اس کے علاوہ یہ زمینی تنصیبات ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں بھی آ سکتی ہیں جس کے سبب خطرات برقرار ہیں۔

کیا کوئی اور حل موجود ہے؟

عرب میڈیا کے مطابق نظریاتی طور پر تیل ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے مگر یہ طریقہ انتہائی مہنگا، سست اور غیر مؤثر ہے۔ 

ایک ٹرک روزانہ صرف 100 سے 700 بیرل تک تیل لے جا سکتا ہے جس کے لیے ہزاروں ٹرک درکار ہوں گے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی نظام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق کی پائپ لائنیں جزوی ریلیف تو فراہم کر سکتی ہیں مگر وہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی سپلائی کی کمی کو مکمل طور پر پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید