• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

190 ملین پاؤنڈ کیس: سلمان صفدر کی بانی و بشریٰ بی بی سے ہدایات کیلئے مہلت کی استدعا

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر ہونے والی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی، جس کے دوران بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، نیب اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود عدالت میں پیش ہوئے۔

نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق 2 متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں، اپیلوں پر نوٹس کے بغیر سزا معطلی کی درخواستیں نہیں سنی جا سکتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نیب قانون میں تبدیلی کے بعد اپیلوں پر نوٹس کے بغیر سزا معطلی نہیں سنی جا سکتی اور اگر یہ اپیلوں پر دلائل دینا چاہتے ہیں تو آج سے شروع کریں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ساری باتیں انہی کی تو نہیں مانی جائیں گی، بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جنوری 2025ء میں سزائیں ہوئیں، تقریباً 14 ماہ گزر چکے ہیں اور اس دوران پراسیکیوشن کی جانب سے التواء مانگا جا رہا ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ بشریٰ بی بی ٹرائل کے دوران ضمانت پر تھیں جبکہ میڈیکل گراؤنڈ بھی موجود ہے، ہمیں سائفر کیس کی اپیل میں دلائل کے لیے 3 ماہ لگے تھے، ہم ابھی مرکزی اپیل پر نہیں، سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی چاہتے ہیں۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہیں۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ہفتے میں 2 دن دیں تو کیا دلائل دے سکتے ہیں؟

سلمان صفدر نے کہا کہ 5 ماہ سے بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں ہوئی، اپیلوں پر دلائل کے لیے ہدایات بھی نہیں لے سکے، جس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ہدایات لے لیں، ہم تاریخ دے دیتے ہیں۔

بانئ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ بانئ پی ٹی آئی کی بار بار گرفتاری اور پھر رہائی کے احکامات جاری ہوتے رہے، سائفر کیس کی اپیل میں 3 ماہ لگے، اس کیس میں مزید وقت لگ سکتا ہے، سزا معطلی کی درخواستوں کو پہلے سنا جائے، یہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ ضمانت سنی جائے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آئندہ ہفتے کے لیے اپیل مقرر کر دیتے ہیں؟ جس پر سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے تو ابھی اپیلوں پر دلائل دینے کے لیے کلائنٹ سے ہدایات ہی نہیں، نیب کیسز میں خواتین کو 15، 15 دن میں ضمانتیں دے دی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سلمان صفدر سے کہا کہ نیب جو آپشن آپ کو دے رہا ہے یہ بہتر آپشن ہے، آپ ہفتے میں دو دن لے لیں۔

سلمان صفدر نے بانی اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے مہلت کی استدعا کر دی۔

قومی خبریں سے مزید