ٹام شوزی امریکی کانگریس کا رُکن ہے، پاکستان سے امریکہ کے بہتر تعلقات کیلئے سرگرم عمل ہے، گزشتہ ہفتے رابطہ کیا گیا کہ میں انکی جانب سے منعقدہ پاکستان اور امریکی تعلقات ماضی حال مستقبل کانفرنس میں شرکت کروں۔ اس میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈاکٹر پال، كانگریس مین جيکب، لیزا کرٹس سنٹر فار نیو امیریکن سیکورٹی ، مائیکل كگلمین اٹلانٹک كاونسل نیٹلی بیکر، الیزبتھ سٹمسن سنٹر ، سفیر رضوان شیخ ، شان صاحب، ڈاکٹر حسن عباس وغیرہ نے شرکت کی۔ میں اس میں شریک تو نہ ہو سکا لیکن اسکے نتائج میں گہری دلچسپی رہی ۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم مستقل بنیادوں پر دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں اور اب تو اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ آپریشن غضب للحق پر مجبور ہو گئے ہیں ، یہ صرف کالعدم ٹی ٹی پی تک محدود نہیں بلکہ بی ایل اے کا بھی معاملہ ساتھ ساتھ ہے ۔ خوشگوار بات یہ ہے کہ جب ٹام شوزی كانگریس مین نے پریس سے بات کی تو ان حالات کے دوران اس نے پاکستان کو در پیش دہشت گردی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے کا ذکر کیا ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کا ذکر تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ امریکی اب بھی اس پر حساس ہیں مگر بی ایل اے کا ذکر یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ میں كانگریس کی سطح پر ایسے لوگ متحرک ہیں کہ جو پاکستان کو در پیش خطرات کو صرف اپنی عینک سے ہی نہیںدیکھتے۔ خیال رہے کہ اس وقت پاکستان عين امریکی جنگ کے دوران بھی توازن کی خارجہ پالیسی اختیار کیے ہوئےہے اور اس دوران امریکی کانگریس سے بھی پاکستان کے حق میں آواز کا بلند ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کیلئے قبولیت صرف ٹرمپ کے اقتدار میں رہنے سے مشروط نہیں ۔ دوسری طرف پاکستان حالات کو بہتر کرنے میں گامزن ہے اور یہ کام پاکستان جنگ کے آغاز سے قبل ہی کر رہا تھا جب پاکستان نے ایک اعلیٰ یورپی سفارتکار کی سہولت کاری کی تھی کہ وہ ایرانی سفارتخانے میں ملاقات کر سکے اور اس وقت بھی پاکستان اس حوالے سے مکمل طور پر جتا ہوا ہے ۔ اس میں دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کی موجودہ مشکلات کو رفع کرنے کی غرض سے تین ماہ کیلئے اپنی سرحد سے ایران کو وسطی ایشیا تک تجارت کرنے میں سہولت دیدی ہے ۔ پاکستان کیلئے بھی وسطی ایشیا کی حیثیت مسلمہ ہے ۔ ترکمانستان جو گیس مہیا کرنیوالا بہت بڑا ملک ہے اس سے پاکستان تو تاپی گیس پائپ لائن اور بجلی تک کے حصول کیلئے کوشاں ہے ، معاہدے کر رکھے ہیں مگر افغانستان کے حالات کے سبب یہ بيل منڈھے نہیں چڑھ رہی ۔ بہر کیف اس تین ماہ کی سہولت سے ہمارے لئے ایک اور راستے سے وسطی ایشیا میں مواقع کھل جاتے ہیں ۔ میری ترکمانستان کے سفیر سے ملاقات ہوئی، وہ پاکستان میں گزشتہ سولہ برس سے متعين ہے جو کہ ان کو پاکستان میں سب سے سینئر سفارت کار بنا دیتا ہے ۔ صرف ترکمانستان ہی نہیں بلکہ پورے وسطی ایشیا پر انکی گہری نظر ہے ۔ ایسی شخصیت کی موجودگی سے پاکستان نہ صرف ترکمانستان بلکہ پورے وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کو حاصل کر سکتا ہے ۔ پاکستان کو اس وقت وسطی ایشیا پر گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کیلئے جتنے بھی راستے تلاش کئے جا سکتے ہیں وہ ه تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے۔ بلاشبہ ہمارے اس بحران میں بھی عرب ممالک سے بہت اچھے تعلقات قائم ہیں اور ہماری توانائی کی ضروریات بھی ادھر ہی سے پوری ہوتی ہیں مگر پھر بھی ہر موقع کو مہیا رکھنا چاہئے ۔ عرب ممالک کا ذکر آیا تو ابھی جس قسم کے الفاظ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کیلئے استعمال کئے ہیں ۔ ان پر صرف جذباتی ہونے کی بجائے اس بات کا تعين کرنا چاہئے کہ سعودی عرب امریکہ کی ایسی کون سی بات نہیں مان رہا یا کس بات سے عملی طور پر کنی كترا رہا ہے کہ یہ بات امریکی صدر کو اس حد تک نا گوار گزری ہے ۔ جمال خاشقجی کے قتل پر امریکی رويہ ہو یا تیل کی قیمت بڑھانے گھٹانے پر اختلافات ، یا چین کی ثالثی میں ایران سے سعودی عرب کے 2023ء میں تعلقات کی بحالی ، سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ میں پہلے بھی انہی کالموں میں عرض کر چکا ہوں کہ سعودی عرب اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اگر اسرائیل کی عرب دنیا سے لے کر عجم تک برتر حیثیت قائم ہو گئی تو اس کے سعودی عرب پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ بھی اسی حوالے سے سعودی عرب کی حکمت عملی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب پر پاک سعودی معاہدہ کے بعد یمن کی جانب سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا کیوں کہ پاکستان نے اس حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہے اور ویسے بھی یمنی اس بات پر شکر گزار ہیں کہ پاکستان نے سخت دباؤ کے باوجود ان کے خلاف فوج نہیں بھیجی تھی اور نواز شریف نے انکار کردیا تھا ۔ دباؤ کو برداشت کرکے قومی مفاد میں کئے گئے فیصلوں کی فصل قوم نسلوں تک کھاتی ہے اور اب یہی ہو رہا ہے ۔