وائٹ ہاؤس نے خبر دی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنی آج کی تقریر میں ایران جنگ خاتمے کے لیے 2 سے 3 ہفتے کے ٹائم ٹیبل کا اعادہ کر سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ پر پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے خطاب کریں گے۔
وائٹ ہاؤس نے خطاب کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جنگ میں وقفے کی خواہش ظاہر کی ہے، حالانکہ اس کے ساتھ انہوں نے کچھ شرائط بھی عائد کیں جو جنگ کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا پرائم ٹائم خطاب ہوگا۔ عام طور پر امریکی صدور بڑے تنازعات کے آغاز پر جلد خطاب کرتے ہیں، اس تاخیر کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے نیچے آ چکی ہے جبکہ مخالفت کی شرح 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ عوامی سطح پر نہ صرف جنگ بلکہ اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف اس مہم کی حمایت کمزور پڑ چکی ہے، اکثریت اس کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ آزاد ووٹرز بھی تیزی سے اس کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں۔