• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان بلکہ اسلام آباد میں چار ملکوں کے نمائندوں نے پورا دن مذاکرات کیے ساری دنیا خبریں سننے بیٹھی۔ اسی ظلم وستم کا سلسلہ ایران میں ٹرمپ کے پروردہ اسرائیل کی جانب سے اس حدتک پہنچا کہ پورے امریکہ میں لاکھوں لوگ ٹرمپ کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ اور زور زور سے کہہ رہے تھے کہ ٹرمپ صاحب آپ کی بادشاہت نہیں چلےگی۔ مگر ٹرمپ صاحب تو سارے جہاں سے بے پروا، ساحل سمندر پہ سیر کررہے تھے۔ اور مجھے گلستان سعدی کی بے شمار حکایات یاد آرہی تھیں۔

سکندر سے لوگوں نے پوچھا کہ تم نے مشرق و مغرب میں بڑے بڑے لشکروں کو زیر کیا یہ عظیم الشان فتوحات تجھے کیسے ملیں؟سکندر نے کہا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جو ملک میں نے فتح کئے انکی رعایا کو کبھی نہیں ستایا۔ پر انے زمانے کی اچھی رسموں کو جاری رکھا۔

ٹرمپ نے کوئی ملک فتح نہیں کیا۔ اس کی خصلت میں بربادی کا زہر تھا اور ہے۔ جبھی تو سینکڑوں دانشوروں اور سیاسی رہبروں کو فنا کرکے بھی اس کا غصّہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اب ایران کو تباہ و برباد کرنے کیلئے یونیورسٹیاں، بجلی گھر اور گھروں کے باہر کھیلتے بچوں کا خون دیکھ کراس نے قہقہے لگائے۔

سعدی نے لکھا کہ ایک حاکم (حجاج )کے لئے نا تواں نے کہا اسکے لئے دعا کیجئے۔بزرگ نے ہاتھ اٹھا کر کہا اے اللہ اس کی جان لےلے۔ حجاج نے پوچھا یہ آپ نے کیسی دعا کی۔ بزرگ نے فرمایا’’تمہارے عوام کے لئے اور تمہارے لئے یہی بہترین دعا ہے کہ اس سے عوام تمہارے ظلم سے بچ جائینگے۔ ‘‘مجھے فوراً یورپ میں پوپ کی دعا یاد آئی۔ انہوں نے کہا’’ٹرمپ کو کسی کی بد دعا لگ جائے اور وہ ظلم و خون سے توبہ کرلے‘‘۔ مگر وہ تو غصے میں کہہ رہا ہے کہ سارے ایران، جزیروں اور ہرمز کے علاقوں کو آگ لگاکے فنا کردوںگا۔ ٹرمپ کا لہجہ کبھی آگ برساتاہے تو کبھی کہتا ہے کہ مجھ سے بات تو کرو۔ یہ قلابازیاں دن میں کئی دفعہ بدلتی اور اچھلتی ہیں۔

وہ جو چار درویش، پاکستان آئے تھے۔ ان سب کے لب پر ایک ہی فقرہ تھا۔ ٹرمپ کے ساتھ مفاہمت سے کام نکلے گا۔ اور ٹرمپ کی یہ تمنا رہی ہے کہ ایران کا تیل اور جزیرے میرے ہاتھ میں آئے تو میں پورے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا نقشہ بدل دوںگا۔ مجھے جلدی ہے ایران کا رجیم بدلنے کی۔ یہ سب پیغامات براہِ راست نہیں اپنے ملنے والوں جیسے نیتن یاہو جیسے ایجنٹ کام کرتے ہیں۔

جب بہت ملکوں کے سربراہوں نے مشاورت میں ہاتھ ڈالا۔ تو کہا اچھا جنگ بندی کا سوچا جاسکتا ہے۔ تجارتی روابط کھولنے کا بھی سوچا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے تو پیدل فوج بھی بلالی تھی پر ایران نے دھمکی دی اور کہا کہ ’’لائے اپنی فوج،ہم اس کو گلیوں گلیوں ریت کردینگے۔ ‘‘ ساتھ ہی ایرانی صدر نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا بس بہت ہوچکی ۔ آبنائے ہرمز کھولنا بھی کوئی آسان نہیں ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بھی گھاس نہیں ڈالی۔

دو ممالک برطانیہ اور اسپین جنھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو لائق توجہ نہیں سمجھا اور چین، روس نے اشاروں میں ہدایات دیں اور اب دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ دنیا کو بدلنے کے لئے خدانہ کرے کیوبا کی طرف دوڑچلیں۔ ان کو اگر کچھ واقعی کرنا ہے تو انڈیا پاکستان اور افغانستان کے اندر سے لڑاکے کیڑے نکال کر باہمی معاملات حل کروائیں۔

سب سے پہلے جس موضوع کو آنا چاہئے تھا۔ اس کو آخر میں لائی ہوں۔ اول تو اس دنگے فساد کے ماحول میں پاکستان کی حکومت ،خاص طور پر وزیراعظم نے تیل اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں قابو میں رکھنے کے لئےعوامی سطح پر اپیل بھی کی اور عملدرآمد بھی کیا۔ جس کا اثر عوام نے دل سے قبول کیا۔ توقع ہے کہ افغانی دہشت گردی جیسےاس وقت قابو میں ہے ویسے بدستور رہےگی اور انڈین حکومت دشمنی کی زبان بولنا اور پاکستان کی ایران جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دونوں ملک 8سال سے بند سرحدوں اور سفارتخانوں کو انسانی سطح پر لاکر عوام کے لئے راستے اور تجارت کے لئے ایسا مرکز بنیں گے کہ مشرقِ  وسطیٰ اور سینٹرل ایشیا کے آذر بائیجان جیسے ممالک کی تجارت کا مرکزی ہدف بنیں گے۔ عوام کی غربت اور جہالت کو دور کرنے کیلئے ایران کی طرح چینی طرز تعلیم کو فروغ دیںگے۔

کمال تو یہ ہوا اور شاید سیاسی زندگی میں پہلی بار ہو کہ صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کے درمیان ملکی مسائل، اسمبلیوں میں نمائندگی اور عوامی مسائل جن میں سب سے اہم ستر فی صد لوگوں کے رہائشی مسائل، سر پہ چھت اور آئے دن کچی آبادیوں پہ میونسپل حکام کے زبردستی غریبوں کو گھروں سے نکالنے کے لئے نا مکمل گھروں پہ چھاپے اور گھر بیٹھی عورتوں کو ڈرانا۔ سارے ملک کے سارے شہروں میں کچی بستیاں ہیں۔ ان کو مالکانہ حقوق ،بنیادی رقم لےکر دےدیے جائیں۔ اور پورے علاقے کی صفائی کی ذمہ داری بھی انہیں پر ڈالی جائے۔ توقع ہے کہ جیسے فیصلے ہوئے ہیں۔ صوبوں کی اسمبلیوں میں دور دراز علاقوں کی نمائندگی کی جانب توجہ سے مقامی معاملات حل کئے جاسکتے ہیں۔

تازہ ترین