چار اور پانچ اپریل 1979ءکی درمیانی شب پاکستان نے صرف ایک سابق وزیراعظم کو نہیں کھویا، بلکہ اس نے انصاف کی حرمت کو بھی کھو دیا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کو رات کی تاریکی میں تختۂ دار تک لے جایا گیا، ایک ایسی خاموشی میں جس میں نہ قوم کو گواہ بننے دیا گیا اور نہ ہی اہلِ خانہ کو آخری ملاقات کی اجازت دی گئی۔ نہ کوئی عوامی احتساب، نہ کوئی وقار، نہ کوئی اختتام۔ صرف ایک خاموشی، جو آج تک گونج رہی ہے۔تاریخ نے اس لمحے کو وہی نام دیا ہے جو اس کا حق تھا’’عدالتی قتل‘‘۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والا مقدمہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے متنازع ترین مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ تقسیم شدہ فیصلہ، قانونی تقاضوں پر سوالات ،اور ایک فوجی دور کا دباؤیہ سب مل کر ایک ایسے فیصلے کا سبب بنے جسے آج بھی انصاف کا قتل سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض ایک مقدمہ نہیں تھا، یہ ریاست کے اخلاقی سفر کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔کئی دہائیوں تک یہ زخم ادارہ جاتی سطح پر نظر انداز رہا۔ بالآخر 2 اپریل 2011 کو صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا، تاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹوکے مقدمےاورپھانسی کے حالات کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکے۔ برسوں بعد 6 مارچ 2024کو سپریم کورٹ نے اپنی رائے دیتے ہوئے واضح طور پر قرار دیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تھا۔ یہ ایک دیر سے آنے والا مگر نہایت اہم اعتراف تھا۔اس کے باوجود، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی کبھی ماند نہیں پڑی۔وہ صرف ایک رہنما نہیں تھے، وہ ایک عہد تھے۔ عوام کے ساتھ ان کا رشتہ جذباتی، فطری اور لازوال تھا۔ انہوں نے عوام کو آواز دی، انہیں شناخت دی، اور انہیں ریاست کے تصور میں شریک کیا۔ اسی لیے آج بھی یہ حقیقت زبان زدِ عام ہےکہ ’’بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ وہ اپنے نظریے میں زندہ ہے، اپنے آئین میں زندہ ہے، اور عوام کے دلوں میں زندہ ہے‘‘۔ بھٹوشہیدنے پاکستان کو 1973ءکا آئین دیا، جو آج بھی وفاق کی سب سے مضبوط اور قابلِ فخر بنیادہے۔1971ءکے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ قومی سلامتی صرف خواہشات پر قائم نہیں رہ سکتی۔ پاکستان کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کیلئے عملی قوت درکار تھی۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا تھا’’ایک عظیم ریاست اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔‘‘آج جب خطہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، یہ فیصلہ اپنی پوری اہمیت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپوں اور فضائی تصادم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امن کس قدر نازک ہے۔ ایسے حالات میں دفاعی توازن کوئی نظریاتی بحث نہیںبلکہ تباہی کو روکنے کی عملی دیوار ہے۔یہی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی میراث ہے۔
تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ جس وژن نے پاکستان کو مضبوط بنایا، وہی شاید ان کے خلاف سب سے بڑا الزام بن گیا۔آج جب ہم اس سیاہ رات کی ایک اور برسی منا رہے ہیں، تو سوالات اب بھی باقی ہیں۔اگر انصاف قانون کے بجائے کسی اور قوت کے تابع ہو جائے تو اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اگر قانونی عمل کو استعمال کر کے مضبوط آوازوں کو خاموش کیا جا سکے تو جمہوریت کس چیز کا نام رہ جاتی ہے؟یہ سوال صرف ماضی کے نہیں، حال اور مستقبل کے بھی ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو تنہا تختۂ دار تک گئے، مگر اس لمحے کا بوجھ آج تک قوم اٹھا رہی ہے۔کیونکہ کچھ رہنما وقت کے ساتھ مٹتے نہیں، بلکہ قوم کے ضمیر کا حصہ بن جاتے ہیں۔اور اسی ضمیر میں، شہید ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہے۔
(مصنفہ رکن قومی اسمبلی پاکستان ہیں )