رؤف اسلم آرائیں، ڈگری
جنگل کی ٹھنڈی صبح تھی۔ میں اپنی سائیکل پر جنگل کے راستے سے گزرا تو یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ وہاں ہر طرف پلاسٹک کے شاپر، بوتلیں اور کچرا بکھرا پڑا ہے۔’’یہ سب کہاں سے آگیا؟ کل تو ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘ اچانک خرگوش دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور روتے ہوئے کہا، دوست! بڑی مصیبت آگئی ہے۔
جانور بیمار ہورہے ہیں، کسی کے پیٹ میں درد ہے، کسی کو کھانسی، یہ سب کچھ پلاسٹک کے شاپر کی وجہ سے ہے۔‘‘ اس کی بات سن کر میں پریشان ہوگیا، اس سے کہا، ’’یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔ ابھی شیر بادشاہ کی میٹنگ ہورہی ہے، وہاں چلتے ہیں،۔‘‘
جنگل کے بیچ بڑا سا میدان تھا جہاں آج جانور ہنگامی اجلاس کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ شیر ایک بلند چٹان پر کھڑا تھا اور سب کی نظروں کا مرکز تھا۔ شیر نے گرج دار آواز میں کہا۔ مجھے بتاؤ! آخر جنگل میں کیا مسئلہ چل رہا ہے؟‘‘ ہرن آگے بڑھا اور بولا۔ ’’بادشاہ سلامت! پلاسٹک کے شاپر گھاس میں پھنس گئے ہیں۔ ہم کھاتے ہیں تو بیمار ہوجاتے ہیں۔‘‘ بندر چیختا ہوا بولا۔ ’’میری دم میں شاپر پھنس گیا تھا! میں پورا دن چھلانگ تک نہیں لگا سکا۔‘
گلہری نے روتے ہوئے کہا، ’’میرا بچہ بوتل میں پھنس گیا تھا۔ ہم اب اپنے بلوں میں بھی محفوظ نہیں۔‘‘ پرندوں نے پرواز کرتے ہوئے آواز لگائی، ذرا اوپر سے دیکھیں، پورا جنگل گندگی کا ڈھیر لگتا ہے۔‘‘ میں نے ہاتھ اٹھاکر کہا۔ شیر بادشاہ! یہ کچرا انسان پھینکتے ہیں، پھر ہوا اسے جنگل تک لے آتی ہے، اگر ہم سب مل کر سوچیں تو حل نک سکتا ہے۔‘‘
شیر نے سب کی باتیں سن کر کہا۔ ’’ٹھیک ہے، کل دوبارہ میٹنگ ہوگی، ہر جانور اپنے مسئلے کا حل بھی بتائے گا۔ سب جانور چلے گئے، مگر جنگل کی فضا میں خوف اور پریشانی پھیلی رہی۔ اگلی صبح پھر سارے جنگل کے جانور میٹنگ میں آگئے۔ شیر نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ہاسب ساتھی حل بتائیں گے کہ جنگل کو بچانا ہے۔
ہاتھی سب سے پہلے بولا۔ ’’میں اپنی سونڈ سے جنگل کا کچرا جمع کرتا رہوں گا، مگر اصل حل انسانوں کو سمجھانا ہے۔‘‘ بندر نے کہا۔ ’’میں درختوں پر پیغام لکھ کر لٹکاؤں گا، جنگل میں کچرا نہ پھینکو۔‘‘ ہرن نے کہا۔ ’’ہم ایک ٹیم بنائی گے۔ جو جنگل میں پھینکا گیا کوڑا فوراً جمع کرے گی۔‘‘ مگر مچھ نے غراتے ہوئے کہا۔ ’’اگر کوئی پانی میں شاپر پھینکے گا تو میں واپس کنارے پر پھینک دوں گا۔‘‘
میں آگے بڑھا اور بولا۔ ’’جانور تو کوشش کریں گے، مگر انسانوں کو سمجھانا ضروری ہے۔ میں اسکول، گائوں اور سڑکوں پر جاکر آگاہی مہم چلاؤں گا۔ ’’جنگل کے بچاؤ، پلاسٹک کے شاپر اور کچرا ہر جگہ نہ پھینکو۔ اسی وقت چڑیاں اڑتی ہوئی آئیں اور کہا۔‘‘ بادشاہ سلامت! انسانوں کے بچے جنگل کے باہر بڑے بوڈ لگا رہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر سب حیران ہوگئے، اور فوری باہر گئے تو دیکھا بچوں نے لکھا تھا۔
’’جانوروں کی زندگی بھی اہم ہے۔‘‘ ’’پلاسٹک چھوڑو، قدرت بچاؤ۔‘‘ ’’جنگل ہمارا دوست ہے، اسے صاف رکھو۔‘‘ میں نے بچوں سے پوچھا۔’’یہ سب کیوں کررہے ہو؟‘‘ایک بچی بولی۔ ہمیں پتہ چلا کہ پلاسٹک سے جانور مر رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے عہد کیا کہ ہم پلاسٹک کم استعمال کریں گے۔جانور خوشی سے ناچنے لگے شیر نے اعلان کیا، ’’آج سے ہمارا جنگل پلاسٹک شاپر سے فری ہوگا، انسان اور جانور مل اسے بچائیں گے۔‘‘
وقت گزرتا گیا، جنگل صاف ہوگا۔ بیماریماں کم ہوتی گئیں، اور پھر ایک دن ندی کا پانی صاف ہوگیا۔ کچھ ہفتوں بعد جنگل پہلے سے زیادہ سرسبز ہوچکا تھا۔ شیر بادشاہ نے ایک دن پھر میٹنگ بلائی، جس میں اس نے کہا۔ ’’ہم نے بہت کچھ بہتر کرلیا ہے، مگر ہمیں ہمیشہ کے لیے پلاسٹک ختم کرنا ہوگا۔ آج آخری منصوبہ بنائیں گے، بتاتیں، آپ سب کیا کرسکتے ہیں؟ تمام جانور اس بار زیادہ پرجوش تھے۔
ہاتھی نےکہا، میں جنگل کے کنارے ایک بڑا کوڑا دان بنا دیتا ہوں، جہاں انسان کچرا ڈالیں گے‘‘۔
بندر نے کہا، ’’میں جنگل کے دروازے پر بیٹھ کر دیکھوں گا کہ کوئی شاپر یا بوتل تو نہیں لے کر آرہا۔‘‘ گلہری نے کہا۔ ’’میں روز بچوں کو بتاؤں گی کہ ہمیں نقصان کس طرح ہوتا ہے۔‘‘ میں آگے بڑھا اور بولا، میں نے اپنے شہر میں پلاسٹک فری مہم شروع کردی ۔ اسکولوں سے لیکچر دیے، دکانوں پر کپڑے کے بیگ، رکھوائے اور سوشل میڈیا پر بھی پیغام پھیلایا۔
اب لوگ واقعی بدل رہے ہیں۔ اتنے میں پرندے خوش خبری لائے۔ انسانوں نے شاپر بند کرنے کا قانون بنا دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر جنگل کے سارے جانور خوش ہو گئے۔ شیر نے چھلانگ لگاکر اونچی آواز میں کہا۔ آج ہم نے صرف جنگل نہیں بچایا، زندگی بچائی ہے۔ انسان اور جانور مل کر جیتے ہیں۔‘‘ میں مسکراکر بولا۔ ’’جنگل آپ کا ہے، لیکن اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
ہم سب مل کر اسے ہمیشہ صاف رکھیں گے۔‘‘ اس دن جشن ہوا۔ پرندے گاتے رہے، بندر درختوں پر ناچتے رہے، ہرن دوڑتے رہے۔ جنگل دوبارہ خوب صورت، تازہ اور صحت مند ہوگیا، یوں پلاسٹک کے خلاف جنگل کی سب سے بڑی مہم کامیاب ہوگئی۔