اظہار الحق
چیونٹیوں کے کان نہیں ہوتے۔ وہ اپنے اینٹینا کی مدد سے سن اور سونگھ سکتی ہیں، ساتھ اس کا ذائقہ بھی معلوم کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیونٹیاں ہر وقت اپنے اینٹینا کو ہلاتی رہتی ہیں۔ اسی کی مدد سے اپنی بستی میں رہنے والوں کے بارے میں جانتی اور اپنا راستہ بھی تلاش کرتی ہیں۔ انسانی آنکھ میں تو ایک عدسہ ہوتا ہے، جبکہ چیونٹی کی آنکھ میں ایک سے زیادہ عدسے ہوتے ہیں۔
اس کی بدولت چیزوں کو آسانی سے دیکھ سکتی ہے۔ چیونٹی کی ایک قسم یہ ہے کہ پتوں کو کاٹ کاٹ کر انھیں اپنی بستیوں میں جمع کرتی رہتی ہیں۔ ان پتوں سے وہ اپنی خوراک تیار کرتی ہیں، جسے فنگس کہا جاتا ہے۔ چیونٹیوں کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہوتی ہیں اور یہ ہر وقت چلتی رہتی ہیں۔
ان کے جسم سے آنے والی مہک ایک جیسی ہوتی ہے، جس سے وہ ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں۔ یہ کسی جگہ مستقل طور پر اپنی بستیاں نہیں بساتیں بلکہ مل جل کراور ہر وقت مصروف رہتی ہیں۔ سب کے ذمے کوئی نہ کوئی کام ہوتا ہے۔ زیادہ تر چیونٹیاں پھل، پھول اور بیج وغیرہ کھاتی ہیں۔
کچھ چیونٹیاں رس پینا پسند کرتی ہیں۔ ایسا رس جو مختلف کیڑے یا درخت تیار کرتے ہیں۔ کچھ چیونٹیاں دوسرے کیڑوں کو کھا لیتی ہیں اور کچھ اپنے سامنے آئی ہر چیز چٹ کر جاتی ہیں، خواہ وہ ننھے جاندار ہی کیوں نہ ہوں۔
بچو! میں آج آپ کو گھوڑے کی کچھ خصوصیات بتاتے ہیں
۱) گھوڑے کی آنکھ تمام زمینی جانوروں میں سب سے بڑی ہوتی ہے، اس لیے گھوڑا 360 اینگل تک دیکھ سکتا ہے۔
۲)گھوڑا پیدائش کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ہی بھاگنا شروع کردیتا ہے۔
۳) نرگھوڑے کے 40اور مادہ کے 36دانت ہوتے ہیں۔
۴)گھوڑے کھڑے اور لیٹ کر دونوں انداز میں سوسکتے ہیں۔
۵) اپنی انکھوں، کانوں، نتھنوں اور چہرے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔
۶)ان کے دماغ کا وزن 22اؤنس ہوتا ہے۔
۷)انہیں میٹھی چیزیں پسند ہوتی ہیں، گرمیوں میں ایک دن میں 25 گیلن تک پانی پی لیتے ہیں۔
۸)ان کی عمومی عمر 25 سال ہوتی ہے۔
۹)گھوڑے کے جسم میں 206ہڈیاں ہوتی ہیں۔
۱۰)گھوڑے 44کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتے ہیں۔