غلام حسین میمن
عامر بچپن سے اپنے نانا نانی کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ اسکول اور مدرسے سے فارغ ہو کر دوپہر کو نانا کی پرچون کی دکان پر آ جاتا اور ساتھ ہی اپنے ماموں کے لئے گھر سے کھانا بھی لے کر آتا۔ ماموں ایک قریبی اسکول میں پڑھاتے تھے۔ صبح سے دوپہر تک دکان کو نانا سنبھالتے اور دوپہر کو ماموں آ جاتے تو نانا گھر چلے جاتے۔
دونوں ماموں بھانجے جب دوپہر کا کھانا کھا رہے ہوتے تو ایک کتا روزانہ دُم ہلاتا ہوا آ جاتا اور خاموشی سے کھڑا ہو جاتا۔ عامر کبھی آدھی اور کبھی پوری روٹی اس کے آگے ڈال دیتا۔ کتا روٹی کھا کر چلا جاتا۔ عامر کے ماموں اکثر کہتے کہ،’’ تم نے کتے کو ہلا لیا ہے۔‘‘وہ جواب دیتا کہ ماموں!’’ ایک روٹی ہی تو کھاتا ہے۔‘‘عامر کو جانوروں اور پرندوں سے بہت محبت تھی۔
چند روز بعد ماموں نے اسے ایک بار پھر ٹوکا تو اس نے کہا، ”یہ جانور ہماری محبت اور توجہ کے محتاج ہیں اور پھر کتا تو وفاداری اور چوکیداری کے لئے بہت مشہور ہے۔“’’مگر ہمیں چوکیداری کی کیا ضرورت ہے۔ ہم تو اپنی دکان پر کئی مضبوط تالے لگا کر جاتے ہیں۔‘‘
ایک صبح جب عامر کے نانا دکان کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو پتا چلا کہ ان کے پاس دکان کی چابیاں نہیں ہیں۔ ان کا بیٹا رات چابیاں کہیں راستے میں گرا آیا تھا۔اب دکان کیسے کھلے گی؟ اتنی صبح تو تالا چابی بنانے والا بھی نہیں آتا۔ بازار تو ویسے بھی دیر سے کھلتا ہے۔ پھر بھی وہ جائزہ لینے کے لئے دکان پر آ گئے۔ دکان کے سامنے کتا بیٹھا ہوا تھا۔ انھوں نے اسے اُٹھانے کی کوشش کی تو وہ نہ اُٹھا۔اس کی موجودگی میں تالا توڑنا مشکل لگ رہا تھا۔
اتنی دیر میں عامر بھی اسکول جانے کے لئے دکان کے قریب سے گزرا۔ اسے بھی چابی کے گم ہونے کا پتا چل گیا تھا۔ وہ نانا کی تکلیف کا خیال کر کے اسکول جانے کے بجائے دکان پر رُک گیا۔ اسے آتا دیکھ کر کتا اُٹھا اور اس کے پاؤں میں لیٹ گیا۔کتا جیسے ہی اُٹھا، اس کے نیچے دکان کی چابیاں پڑی تھیں۔
نانا نے اسے فوراً اُٹھا لیا اور حیرت سے دیکھنے لگے۔ عامر نے بھی یہ منظر دیکھا اور ساری بات سمجھ گیا۔ کتا اس کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ دکان کھلنے کے بعد عامر اسکول چلا گیا۔
اسی وقت محلے کا چوکیدار آٹا خریدنے آ گیا اور اس نے نانا سے کہا، ”آج آپ کی دکان کے باہر ایک عجیب سی بات دیکھی۔ رات سردی بہت زیادہ تھی، مگر پھر بھی ایک کتا آپ کی دکان کے باہر ساری رات بیٹھا رہا۔ ورنہ عام طور پر ایسے موسم میں جانور بھی دیوار وغیرہ کی اوٹ لے کر سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔“
قصہ یوں تھا کہ رات عامر کے ماموں نے دکان بند کر کے چابی جیب میں ڈالی تو وہ زمین پر گر گئی۔ ماموں کو اس کا احساس نہ ہوا۔اس دوران کتا آ گیا اور اس کی نظر چابیوں پر پڑی تو اس نے اسے اپنے نیچے چھپا لیا، تاکہ کوئی اور ان چابیوں کو نہ اُٹھا لے۔
وہ ساری رات سخت سردی میں بیٹھا چابیوں اور دکان کی حفاظت کرتا رہا۔ نانا بھی کتے کی وفاداری سے بہت متاثر ہوئے۔ ماموں شرمندہ ہوئے کیوں کہ وہ عامر کو کتے کے آگے روٹی ڈالنے کو منع کرتے تھے۔ اب وہ خود اکثر کتے کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے رکھنے لگے تھے۔