تدفین کے انتظامات کرنے والے 48 سالہ فیونرل ڈائریکٹر رابرٹ بش نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے 30 لاشوں کی تدفین نہیں کی اور لواحقین کی جانب سے خیراتی اداروں کو دی جانے والی رقم چوری کی، انہیں سزا 27 جولائی کو سنائی جائے گی۔
پولیس نے مارچ 2024ء میں ہل میں قائم لیگیسی انڈیپینڈنٹ فیونرل ڈائریکٹرز کے خلاف انتقال کرجانے والے افراد کے لواحقین کی جانب سے تحفظات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
رابرٹ بش پہلے ہی اعتراف کرچکا ہے کہ اس کے خاندانوں کو اجنبی افراد کی راکھ دے کر دھوکہ دیا اور جعلی فیونرل پلان فروخت کئے۔
جج جسٹس مسٹر ہلیارڈ نے کہا کہ اس کیس میں قید کی سزا ناگزیر ہے تاہم انہوں نے بش کو ضمانت پر رہا کردیا، رابرٹ بش پر پولیس نے فرد جرم اس وقت عائد کی جب تلاشی کے دوران انسانی باقیات برآمد ہوئیں، جن میں حمل کے دوران ضائع ہوجانے والے 4 بچے بھی شامل تھے۔
ہمبر سائیڈ پولیس کے مطابق تمام الزامات مئی 2012ء اور 6 مارچ 2024ء کے درمیانی عرصہ سے متعلق ہیں، عدالت میں کلرک نے 10 منٹ تک الزامات پڑھ کر سنائے۔
رابرٹ بش نے ہر الزام پر کوئی جذبات ظاہر کئے بغیر مجرم ہونے کا اعتراف کیا، عدالت میں موجود لواحقین نے بش کو حقیقی درندہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جرم قبول کرنے کے باوجود اسے عدالت سے جاتا دیکھ کر دکھ ہوا اسے حراست میں لیا جانا چاہیے تھا۔