• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روسی معیشت مضبوط یا دباؤ میں؟ تیل کی آمدن اور جنگی اخراجات پر سوالات اُٹھ گئے

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

روسی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک کی معیشت پابندیوں کے باوجود مستحکم ہے، شرحِ نمو برقرار ہے، مہنگائی کم ہو رہی ہے اور زرِمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں روس کی معیشت سے متعلق 2 مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی ماہرین اور سویڈن کی خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ روس اصل معاشی دباؤ کو چھپا رہا ہے، حقیقی مہنگائی سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے اور معیشت قرض پر چل رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق روس کو مالی توازن کے لیے تیل کی قیمت کم از کم 100 ڈالرز فی بیرل درکار ہے، ساتھ ہی بینکاری کے شعبے میں دباؤ کے آثار بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔

تحقیقی اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ 2022ء کے بعد روس نے کئی اہم معاشی اعداد و شمار جاری کرنا بند کر دیے ہیں جبکہ مہنگائی کا اندازہ لگانے کا طریقہ بھی بار بار تبدیل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ پرانے اعداد و شمار میں بعد میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے شفافیت پر سوال اٹھے ہیں۔

دوسری جانب روسی وزارتِ خزانہ کے مطابق 2023ء میں معیشت 3.6 فیصد بڑھی جس کے مستقبل میں بھی 3 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے، ملک کا قرض جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد ہے جو عالمی سطح پر کم سمجھا جاتا ہے جبکہ دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق روس روزانہ تقریباً 47 ارب روبل جنگ پر خرچ کر رہا ہے جبکہ 2026ء میں دفاعی بجٹ 140 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بجٹ خسارہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، جو 2022ء میں 3.29 کھرب روبل، 2023ء میں 3.23 کھرب، 2024ء میں 3.47 کھرب اور 2025ء میں 5.62 کھرب روبل تک جا پہنچا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق تیل سے آمدن نہ ہونے کے باوجود روس اب بھی تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک روس کی معیشت کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پا رہے اور ہر مثبت ڈیٹا کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس کی معیشت پر دباؤ موجود ہے، معیشت جنگ کے گرد گھوم رہی ہے، کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے اور افرادی قوت کی کمی بھی سامنے آ رہی ہے۔

ایسی صورتِ حال میں اصل سوال یہ ہے کہ یہ دباؤ قابو میں ہے یا کسی بڑے معاشی جھٹکے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید