• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مانچسٹر، کشتی حادثے میں 22 افراد کی موت، 2 سوڈانیوں کو عدالتی کارروائی کا سامنا

مہاجرین کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 22 افراد کی موت کے بعد 2 سوڈانیوں کو عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق کشی حادثے میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا تھا کہ اسمگلرز نے متاثرین میں سے لوگوں کو لیبیا میں کشتی میں 6 دن گزارنے کے بعد خوراک اور پانی ختم ہونے پر جہاز سے پانی میں پھینکنے کا حکم دیا تھا۔

اس کارروائی کے پیچھے مبینہ طور پر ملوث 2 سوڈانی افراد پر الزام ہے کہ وہ اسمگلنگ میں ملوث تھے، ان پر 22 افراد کو منظم طریقے سے سمندر میں پھینک کر قتل کرنے کا الزام ہے۔

مقامی عدالت میں ان کی پیشی تھی، لیبیا سے جنوب مشرقی یورپی ملک میں غیر قانونی طور پر متعدد متوقع تارکین وطن کی اسمگلنگ کے الزام میں دونوں کو تفتیشی مجسٹریٹ کے سامنے گواہی دینے کے لئے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا، جس پر مبینہ اسمگلرز جن کی عمریں 19 اور 21 سال ہیں ہفتے کے روز کریٹان کے دارالحکومت ہیراکلیون میں ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔

یونانی پولیس نے کہا کہ مشرقی لیبیا میں توبروک سے 200 ناٹیکل میل کے دردناک سفر سے بچ جانے والے ایک خاتون اور ایک بچے سمیت 26 افراد نے اپنے 22 ساتھی کی ہلاکت کے ذمے داروں کے خلاف بیانات قلمبند کرائے ہیں۔ عدالت میں باریک بینی سے سماعت جاری ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید