دنیا کے نقشے پر مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر دہک رہا ہےمگر اس بار صرف بارود نہیں جل رہا بیانیے جل رہے ہیں سچ اور تاثر کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ ایک طرف واشنگٹن میں بیٹھا ایک صدر ہے جو قوم سے خطاب میں اعلان کرتا ہے کہ ہم نے ایران کو تاریخ کے بدترین نقصان سے دوچار کر دیا، اس کی بحریہ ختم ،فضائیہ تباہ قیادت مٹ چکی ہےاور اب صرف دو سے تین ہفتوں میں مشن مکمل ہو جائیگا اور دوسری طرف ایک ایسی حقیقت ہے جو اب بھی سوال پوچھ رہی ہے: کیا واقعی جنگ ختم ہونے جا رہی ہے یا صرف اس کا ایک باب بند ہو رہا ہے؟یہ کہانی صرف ٹرمپ، ایران ، اسرائیل یا خلیجی ممالک کے انسانوں کی ہے۔ ان انسانوں کی جو غزہ میں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
ان اسرائیلی شہریوں کی جو پہلی بار اپنے گھروں میں خوف محسوس کر رہے ہیں ، ان ایرانی خاندانوں کی جو آنے والی راتوں کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتےاور ان امریکی شہریوں کی جو ہزاروں میل دور بیٹھے ٹی وی اسکرین پر ایک فتح کی خبر سن رہے ہیں مگر دل کے کسی کونے میں شاید ایک سوال دبائے بیٹھے ہیں: کیا یہ واقعی فتح ہے؟
صدر ٹرمپ کی تقریر ایک کلاسیکی جنگی بیانیہ ہے طاقت کا اظہار دشمن کی مکمل تباہی کا دعویٰ اور جلد کامیابی کا وعدہ۔We have all the cardsجیسے جملے صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک ذہنیت کی عکاسی ہیں ایک ایسی سوچ جو دنیا کو شطرنج کے بورڈ کی طرح دیکھتی ہے جہاں ہر ملک ایک مہرہ ہے اور ہر بحران ایک چال۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کو 15 سے 20 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اگر یہ سچ بھی مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف کسی ملک کی عسکری یا جوہری صلاحیت کو وقتی طور پر کمزور کر دینا ہی کامیابی ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ارادوں سے جیتی یا ہاری جاتی ہیں۔ اگر ایران کا ارادہ باقی ہے اگر اس کی جغرافیائی پوزیشن اب بھی ہرمز کی شکل میں دنیا کی معیشت کی شہ رگ پر موجود ہے تو پھر یہ فتح کتنی مکمل ہے؟
یہاں ہرمز کا ذکر ضروری ہے۔ دنیا کا ایک بڑا حصہ اپنی توانائی اسی راستے سے حاصل کرتا ہے اور ایران اب بھی اس پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ اصل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف اپنی شکل بدل رہی ہے۔ امریکہ میدان میں جیت کا اعلان کر سکتا ہے،لیکن اگر ایران معاشی یا جغرافیائی دباؤ برقرار رکھتا ہے تو وہ ایک مختلف میدان میں اپنی موجودگی ثابت کرتا رہے گا۔اس ساری صورتحال میں اسرائیل کا کردار بھی اہم ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم اس آپریشن کو کامیابی قرار دیتے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی عوام خود کو پہلے جیسا محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔ جب سائرن بجتے ہیں ،جب میزائل دفاعی نظام کے باوجود کچھ حملے کامیاب ہو جاتے ہیں تو خوف ایک حقیقت بن جاتا ہے۔
پھر سوال آتا ہے امریکہ کے اتحادیوں فرانس، برطانیہ، اور خلیجی ممالک کا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’ہم سے فیول خریدیں یا خود ہرمز جا کر تیل لے لیں ہم آپ کا رویہ یاد رکھیں گے‘ دراصل ایک نئے عالمی نظام کا اعلان ہے۔ یہ وہ امریکہ نہیں جو اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرتا تھا بلکہ ایک ایسا امریکہ ہے جو کہتا ہے کہ سیکورٹی اب ایک سروس ہے جسکی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اس بیان نے مغربی اتحاد کے اندر دراڑوں کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یورپ اب زیادہ محتاط ہے زیادہ خود مختار ہونے کی بات کر رہا ہےجبکہ خلیجی ممالک اب بھی امریکہ سے مکمل دباؤ جاری رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔چین کا اس دوران سفارت کاری کی طرف آنا ایک اور اہم موڑ ہے۔ جب ایک طرف جنگی بیانیہ عروج پر ہو اور دوسری طرف کوئی طاقت خاموشی سے مذاکرات کی بات کرے تو یہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشانی ہوتی ہے۔ چین جانتا ہے کہ استحکام اس کے معاشی مفادات کے لیے ضروری ہے اور وہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکہ کے ممکنہ انخلا سے پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں صرف ایک طاقت فیصلہ کن نہ ہو، بلکہ کئی طاقتیں مل کر توازن قائم کریں۔
اور پھر وہ سوال جس نے سب کو چونکا دیا: امریکی عوام کہاں ہیں؟ وہ عوام جو جمہوریت، آزادیٔ اظہاراور انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ غزہ میں ہزاروں جانیں ضائع ہو گئیں، ایران پر حملے ہو رہے ہیں مگر امریکہ کے اندر وہ طوفانی ردعمل نظر نہیں آ رہا جو ویتنام یا عراق جنگ کے دوران دیکھا گیا تھا۔ اس کا جواب آسان نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی جنگیں امریکی شہریوں کے گھروں تک نہیں پہنچتیں۔ ان کے لیے یہ خبریں ہیں نہ کہ روزمرہ زندگی کا حصہ۔ اس کے علاوہ میڈیا کا بیانیہ، سیاسی دباؤ اور داخلی مسائل بھی عوامی توجہ کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ آوازیں اٹھتی ضرور ہیں، مگر وہ اس حد تک نہیں پہنچ پاتیں جہاں پالیسی بدل جائے۔
آج جو کچھ ہو رہا ہےوہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل ہے۔ امریکہ اپنی طاقت کا اظہار کر رہا ہے، چین اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے یورپ اپنی خودمختاری کی تلاش میں ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ مگر اس سب کے درمیان سب سے بڑا سوال وہی ہے جو شروع میں تھا: کیا یہ واقعی اختتام ہےیا صرف ایک وقفہ؟