ایران نے پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیق کر دی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی تجاویز پر ردِعمل مرتب کر لیا ہے، جوابات مرتب کیے ہیں، مقررہ وقت پر تفصیلات کا اعلان کریں گے، قومی مفادات کی بنیاد پر اپنے مطالبات ثالثی چینلز کے ذریعے پہنچا دیے گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنے جائز مطالبات بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا، اسے سمجھوتے کی علامت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے، یہ قومی دفاع کےعزم کا عکاس ہے، مذاکرات، الٹی میٹم اور جنگی جرائم کے ارتکاب کی دھمکیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ایران نے امریکا کے مجوزہ 15 نکاتی منصوبے کو انتہائی غیر معمولی، غیر منطقی اور حد سے زیادہ بلند عزائم پر مبنی قرار دے دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں ثالثی کے ذریعے امریکا کی تجاویز ایران تک پہنچائی گئیں، جس میں 15 نکاتی منصوبہ بھی شامل تھا جو پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ذریعے سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی شرائط اور مطالبات کو حتمی شکل دے دی ہے، تاہم مناسب وقت پر ہی انہیں ظاہر کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اپنا فریم ورک موجود ہے اور تمام مطالبات ملکی مفادات اور داخلی غور و فکر کے بعد ترتیب دیے گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ثالثوں کے ساتھ بات چیت کمزوری کی علامت ہے، ایران نے ابتداء ہی سے ان تجاویز پر اپنا ردعمل تیار کر رکھا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے واضح طور پر سامنے لایا جائے گا۔