ایران میں جنگی حالات کے دوران انٹرنیٹ کی ریاستی سطح پر بندش نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
عالمی مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ کسی بھی ملک میں سب سے طویل مکمل یا تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے ملک میں عالمی انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً 1 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ شہریوں کو محدود اور سست انٹرانیٹ تک ہی رسائی حاصل ہے جو صرف سرکاری خبروں اور بنیادی سروسز تک محدود ہے۔
نیٹ بلاکس کے مطابق ایران پہلا ملک ہے جہاں مکمل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے بعد اسے ختم کر کے قومی نیٹ ورک پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار، سوڈان، کشمیر اور تیگرائے میں طویل بلیک آؤٹ دیکھے گئے، مگر ایران جیسی مکمل اور طویل بندش کہیں نہیں دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جنوری میں بھی 20 روزہ انٹرنیٹ بندش نافذ کی گئی تھی، جس کے باعث 2026ء کے دوران ایرانی عوام کا بڑا حصہ ڈیجیٹل دنیا سے کٹا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس بندش کے باعث آن لائن کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں اور روزانہ کروڑوں ڈالرز کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں سے وابستہ افراد کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ملازمتوں سے نکالے جانے کا سلسلہ تیز ہوا ہے اور کئی ادارے 3 ماہ کے عارضی کنٹریکٹس پر منتقل ہو گئے ہیں، جس سے مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت صرف مخصوص افراد اور اداروں کو انٹرنیٹ تک رسائی دے رہی ہے، جن میں سرکاری حکام، ریاستی ادارے اور بعض میڈیا پلیٹ فارمز شامل ہیں، جبکہ عام شہری مہنگے پراکسی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب ایران میں بجلی اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ جنگ کے باعث صنعتی و معاشی ڈھانچہ مزید دباؤ کا شکار ہے۔
حکومت کی جانب سے تاحال انٹرنیٹ بندش کی کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔