امریکی سیٹلائٹ امیجنگ کمپنی پلینٹ لیبز نے ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے متعلق تصاویر کی فراہمی غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا۔
کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی درخواست پر کیا گیا ہے، جس میں سیٹلائٹ تصاویر کو عارضی طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
کمپنی نے اپنے صارفین کو بھیجی گئی ای میل میں بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے امیجری فراہم کرنے والی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ سے متعلق حساس تصاویر کو غیر معینہ مدت تک روک دیں۔
پلینٹ لیبز نے بتایا کہ اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ کی تصاویر پر 14 روزہ تاخیر نافذ کی گئی تھی، جو ابتدائی 96 گھنٹوں کی پابندی میں توسیع تھی، کمپنی کے مطابق یہ اقدام دشمن عناصر کو امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف تصاویر کے ممکنہ استعمال سے روکنے کے لیے کیا گیا۔
کمپنی نے کہا کہ 9 مارچ کے بعد کی تمام تصاویر کو روکا جائے گا اور یہ پالیسی جنگ کے خاتمے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
کمپنی کے مطابق اب منظم تقسیم کے تحت صرف وہی تصاویر جاری کی جائیں گی جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ نہ ہوں، جبکہ ہنگامی یا عوامی مفاد کے معاملات میں کیس ٹو کیس بنیاد پر اجازت دی جائے گی۔
کیلیفورنیا میں قائم کمپنی نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال غیر معمولی ہے اور وہ تمام فریقین کے مفادات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، جس میں اہداف کی نشاندہی، میزائل ٹریکنگ اور رابطہ کاری شامل ہیں، جبکہ صحافی اور محققین بھی ان تصاویر کو اہم معلومات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔