ایران کے سابق وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق الٹی میٹم کی مذمت کرتے ہوئے سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے اشتعال انگیز قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ ایران اپنا دفاع کرے گا، اپنی بھلائی کے لیے اپنے الٹی میٹم پر خود توجہ دیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز ایک جنگی جرم سے ہوا، جس میں مناب کے اسکول پر حملہ کر کے 170 بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔
جواد ظریف نے کہا کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے مایوسی اور غیر مہذب انداز میں مزید جنگی جرائم کی کھلی دھمکی دی، اس طرح کی کارروائیوں میں شمولیت بین الاقوامی فوجداری ذمے داری کا باعث بن سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر نے کھلے عام جنگی جرائم کی دھمکی دی، پاور پلانٹس، پلوں کو اڑانے کی دھمکی عالمی فوجداری عدالت کے آرٹیکل کے تحت جنگی جرم ہے۔
واضح رہے کہ جواد ظریف اس سے قبل بھی خبروں میں رہے ہیں جب انہوں نے امریکی جریدے میں جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں، جس پر ایرانی حکومت کی جانب سے انہیں سرزنش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔