• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو وقت سے قبل صدارت سے ہٹایا جا سکتا ہے؟ امریکی قانون کیا کہتا ہے؟

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت فوجی اقدامات اور حالیہ دھمکیوں کے بعد قانون سازوں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے اِنہیں مدت پوری ہونے سے قبل عہدے سے ہٹانے کے لیے امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم استعمال کرنے کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر منگل کی رات 8 بجے تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایرانی بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

بین الاقوامی جریدے ’ٹائم میگزین‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بیان کے بعد امریکی اور عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے جبکہ ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے حملے عام شہریوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ صدر کے اقدامات ’انتہائی خطرناک‘ ہیں اور کابینہ کو 25 ویں ترمیم پر غور کرنا چاہیے۔

 ان کا کہنا ہے کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

اسی طرح رکنِ کانگریس یاسمین انصاری اور میلانی اسٹینسبری سمیت کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی صدر کو عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، بعض ریپبلکن ناقدین جن میں سابق رکنِ کانگریس جو والش اور سابق وائٹ ہاؤس عہدیدار انتھونی اسکاراموچی شامل ہیں، انہوں نے بھی صدر کی برطرفی کی حمایت کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے سفارتی نمائندوں نے بھی عالمی سطح پر جاری بیانات میں 25 ویں ترمیم کے استعمال کی تجویز کا حوالہ دیا ہے۔

25ویں ترمیم کیا ہے؟

امریکی آئین کی 25ویں ترمیم 1967ء میں صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے بعد منظور کی گئی تھی، یہ ترمیم صدر کی معذوری یا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں اقتدار کی منتقلی کا طریقۂ کار طے کرتی ہے۔

شق 1: صدر کے انتقال یا استعفے پر نائب صدر صدر بن جاتا ہے۔

شق 2: نائب صدر کی خالی نشست پر نئے امیدوار کی نامزدگی۔

شق 3: صدر اپنی بیماری یا عارضی معذوری کی صورت میں اختیارات عارضی طور پر منتقل کر سکتا ہے۔

شق 4: نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت صدر کو فرائض انجام دینے کے قابل نہ قرار دے کر اختیارات سنبھال سکتی ہے جس کی حتمی توثیق کانگریس کرتی ہے۔

تاریخ میں شق نمبر 4 کبھی استعمال نہیں کی گئی جبکہ شق 3 کو کئی صدور نے طبی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر استعمال کیا ہے جن میں رونالڈ ریگن، جارج ڈبلیو بش اور جوبائیڈن شامل ہیں۔

سیاسی امکانات کم مگر بحث جاری

ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر کو 25 ویں ترمیم کے تحت ہٹانا انتہائی مشکل عمل ہے کیونکہ اس کے لیے نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کی حمایت ضروری ہوتی ہے تاہم ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نے واشنگٹن میں آئینی اختیارات اور صدارتی طاقت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ خود بھی حالیہ بیان میں اشارہ دے چکے ہیں کہ ان کی جنگی حکمتِ عملی مخالفین کو 25 ویں ترمیم کی طرف لے جا سکتی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید