• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اپنی گفتگو کی ابتدا میں وائس چانسلر شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سندھ ڈاکٹر یوسف خشک ، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ پيس اسٹڈی شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سرفراز علی کوریجو کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاںصہیونیت اور ہندو توا پر اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ میں ڈاکٹر نفیسہ شاہ ، ڈاکٹر امجد مگسی صدر پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن پاکستان ، ایمبیسیڈر جوہر سلیم اور تمام سامعین کے سامنےیہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم آج صہیونیت اور ہندو توا کے حوالے سے گفتگو کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کر رہے ہیں ؟ آیا بین الاقوامی حالات پر صرف سوچ بچار کی افادیت کی غرض سے یا ان انتہا پسندانہ نظریات سے ہمیں کوئی براہ راست خطرہ بھی لاحق ہے ؟ جواب یہی آئیگا کہ یہ صرف ہمارے گرد و نواح کی کہانیاں نہیں بلکہ ہمارے سروں پر منڈلاتا خطرہ ہے ۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ ان دونوں اصطلاحات کا استعمال ان دونوں مذاہب کے تمام پیروکاروں کیلئے نہیں ہے ۔ وطن عزیز میں ہندو برادری کی قابل لحاظ تعدادآباد ہے اور انکوکسی سے حب الوطنی یا غیر انتہا پسند ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے جب یہ طے ہے کہ پاکستان کو ان دونوں انتہا پسندانہ نظریات سے خطرہ لاحق ہے تو دیکھنا یہ پڑئیگاکہ ان دونوں کی پہنچ کہاں تک ہے اور انکے منصوبے کیا ہیں ؟ حالیہ آبنائے ہرمز کے بحران نے صرف ماہرین ہی نہیں بلکہ بچے بچے کو آشنا کر دیا ہے کہ سمندری راستوں کی کیا قدروقیمت ہوتی ہے ؟ اور اس وجہ سے ہی قائد اعظم نے اپنے آخری دورہ لندن 1946ءکے بعد قاہرہ میں قیام کے دوران خطاب میںفرمایا تھا کہ اگر پاکستان نہ بنا تو ہندو سامراج کے اثرات مصر تک موجود ہونگے اور انکے اسرائیل کے حوالے سے خیالات تو زبان زد عام ہیں ۔ صہیونیت اپنی بالا دستی قائم کرنے کی غرض سے اس وقت اپنی طاقت کے کمال پر آئی جب ابراہام ایکارڈ کے نام سے پورے عرب میں اسکی بالا دستی کا ایک فریم ورک تشکیل دیدیا گیا ۔ اس سیاسی بالا دستی کو قائم کرنے کیلئےاسرائیل بحری گزرگاہوں پر اپنی تزویراتی بالا دستی قائم کر رہا ہے ۔ باب المندب، بحیرہ احمر ، خلیج عدن سب میں اسکی رسائی کےآثارنظر آ رہے ہیں ۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے وہ صومالی لینڈ کی ساحلی پٹی، جو حوثیوں کے زیر اثر علاقوں سے صرف 250 کلو میٹر دور ہے،تک پہنچ گیا ہے ، اس ایک ہی اقدام سے اسکو جیبوتی میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی تزویراتی گہرائی ميسر آ گئی ہے ، یمن کے جزیرے سکوترہ پر یو اے ای کے فوجی بیس پر اسرائیل نے اپنے فوجیوں کیساتھ ساتھ جدید ریڈار سسٹم اور سیکورٹی کے آلات نصب کئے ہیں تا کہ وہ وہاں سے پورے سمندری راستے پر نظر رکھ سکے ، اثر انداز ہو سکے ۔ صومالی لینڈ کی بربیرہ ایئر فیلڈ تک اسکی رسائی سے وہ اس سے متصل گہرے پانی کی بندر گاہ، جس کا 65فیصدکنٹرول یو اے ای کی ڈی پی ورلڈ کے پاس ہے ، سے لیکر پورٹ آف بوساسو جس کا بھی کنٹرول ڈی پی ورلڈ کے پاس ہی ہے تک رسائی حاصل کرچکاہے ۔ اگر ہم نقشے کو دیکھیں تو یہ حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آ جائیگی کہ سوڈان سے مشرقی بحیرہ روم تک وہ اپنے قدم جما چکا ہے اور اپنے اتحادیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں اپنے آپ کو گمان کرنے لگا ہے کہ وہ باب المندب کوریڈور کی تشکیل اب اپنی مرضی سے کر سکتا ہے اور اب تو وہ آبنائےہرمز پر بھی نظریں گاڑے بیٹھا ہے ۔ سعودی عرب سے اس وقت اس کو مسئلہ ہی یہ ہے کہ صہیونی یہ سمجھتے ہیں کہ عرب دنیا میں اگر کوئی انکے منصوبوں کو چیلنج کر سکتا ہے تو وہ سعودی عرب ہے اور سعودی عرب اور مصر کے درمیان پل موسیٰ کے منصوبے کو حتمی شکل دینے سے تو اسکے کان اچھی طرح سے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ پل موسیٰ 32 کلو میٹر پر مشتمل ایسا پل ہوگا جو سعودی راس حامد مصری جزیرہ نما سینا کو ملا دیگا اور فطری طور پر انڈیا مڈل ایسٹ اکنامک کوریڈور کا متبادل یعنی اسرائیل بائی پاس ہو سکے گا ، ٹرمپ ایسے ہی سعودی ولی عہد کیلئے نازیبا الفاظ استعمال نہیں کررہااگر وہ ٹرمپ کی تمام باتیں تسلیم کر رہے ہوتے تو پھر نازیبا گفتگو کی کوئی منطق نہ تھی ۔ اسی طرح سے آپ انڈین میری ٹائم ڈاکٹرائن 2025 کو پڑھ لیجئے اور ساتھ ساتھ انڈیا کے انڈو پیسفک اوشنز انیشیٹو کو دیکھئے تو علاقائی بالا دستی ، سیکورٹی پرووائیڈر کے دعوے آپ کے سامنے ہونگے ،بات صرف بحیرہ ہند تک محدود نہیں بلکہ جنوبی مشرقی ایشیا سے پیسفک تک کے عزائم بالکل سامنے کی بات ہونگے ۔ ہمارے ایک طرف انڈیا ہندو توا کے ساتھ کھڑا ہے تو سمندر کی دوسری طرف ابراہام ایکارڈ کی چلمن کے پیچھے اسرائیل کا چہرہ صاف دکھائی دیگا۔ اس وقت صہیونیت اور ہندو توا میں نظریاتی ہم آہنگی صاف نظر آ رہی ہے ، نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل میں تو تاریخی تعلقات بھی تلاش کر لئے گئے ، نسلی برتری کا خبط اور اسکے زیر اثر دوسروں کو محکوم بنانے کا نظریہ دونوں میں قدر مشترک ہے ، انڈیا نے شہریت ترمیمی ایکٹ ، 370 اور 35 اے میں تراميم در اصل اسرائیل کی فلسطینیوں کے حوالے سے اختیار کی گئی پالیسی کی نقل پیش کی ہے ۔ ان ہی مشترکہ نظریات کی وجہ سے مشترکہ فوجی و انڈسٹریل کمپلیکس انڈیا اور اسرائیل کے درمیان تشکیل پا رہا ہے ۔ پاکستان کو اس تمام صورت حال پر گہری نظر رکھنی چاہئے اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔

( یہ تقریر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ پیس اسٹڈی شاہ عبد الطیف یونیورسٹی خیر پور سندھ میں کی گئی )

تازہ ترین