ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر پاکستان کی سیاسی شخصیات نے پاکستانی سول و عسکری قیادت کے کردار کو سراہا اور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سیز فائر مستقل ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس سنگِ میل کے حصول میں کردار ادا کرنے والے تمام فریقین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت سے توقع ظاہر کی کہ عالمی حالات میں بہتری کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
دوسری جانب چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو عالمی تنازع کے حل میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مؤثر ثالثی سے دنیا بھر کو ریلیف ملے گا۔
ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے سیاسی و عسکری قیادت کو مبارکباد دی۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ثابت کیا کہ پاکستان عالمی امن کا اہم ستون بن چکا ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی وزیراعظم کی قیادت اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو جنگ بندی ممکن بنانے میں اہم قرار دیا اور اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب سنگِ میل کہا۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان نے مؤثر سفارتکاری کے ذریعے خطے کو ممکنہ تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر مثبت مثال قائم کی۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جنگ بندی میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار رہا اور عالمی میڈیا بھی پاکستان کی قیادت کو نمایاں طور پر سراہ رہا ہے۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ دانشمندی ہے اور یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے گی۔
ادھر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی میں پاکستان نے غیر جانبدار سہولت کار کا کردار ادا کیا جس سے ملک کی عالمی ساکھ مضبوط ہوگی۔