سندھ حکومت کے محکمہ بورڈز و جامعات کی ہدایات کے بعد بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں گھوسٹ اور دہری سرکاری ملازمت کے حامل ملازمین کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی، جہاں 9 ایسے ملازمین کا انکشاف ہوا ہے جو طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے یا دہری ملازمت کرتے تھے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق گھوسٹ ملازمین میں اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرار، اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات، کلرکس اور دیگر عملہ شامل ہے۔
ان میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبروز، لیکچرار ڈاکٹر منیر احمد عباسی اور اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات شیراز احمد گزشتہ آٹھ ماہ سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئے۔
اسی طرح اسسٹنٹ کے عہدے پر تعینات عائشہ، سینئر کلرک زوہیب عثمان، تنویر سومرو، پیر محسن اور جویریہ بتول بھی آٹھ ماہ سے غیر حاضر ہیں، جبکہ سب انجینئر عاصمہ اختر گزشتہ چار ماہ سے ڈیوٹی سے غائب ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے طویل غیر حاضری پر مذکورہ ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان ملازمین کو ماضی میں بھی متعدد بار نوٹسز دیے گئے تاہم انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ غیر حاضر ملازمین ڈیوٹی انجام دیے بغیر یونیورسٹی سے لاکھوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں وصول کرتے رہے۔
دریں اثنا اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبروز نے تقریباً 30 لاکھ روپے واپس جمع کرا کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے اور ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔