تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ یو اے ای نے ساڑھے 3 ارب ڈالرز مانگے تو گھبراہٹ شروع ہو گئی تھی، دوست ممالک اپنا پیسہ واپس مانگ لیں تو ملک ڈیفالٹ ہو جائے گا۔
اسلام آباد میں سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ معیشت کے آگے جانے کا آخری سہارا غیر ملکی دوست ممالک رہ گئے ہیں، ہمارے پاس موجود کُل ریزرو 16 بلین ڈالرز ہیں، 16 میں سے ساڑھے 12بلین ڈالرز دوست ممالک کے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی کامیابی جی ڈی پی سے ہوتی ہے، گزشتہ 4 سال میں جی ڈی پی ملک کی بدترین جی ڈی پی رہی، غیر ملکی سرمایہ کاری 1974 کے بعد کم ترین سطح پر ہے، ہمارے منسٹر ہر بار یہی بات کرتے ہیں کہ ہم بہتری لائیں گے، پاکستان میں گزشتہ 4 سال میں پچھلے 50 سال کی بدترین انویسٹمنٹ رہی، ہم نے 10 نکات پر مشتمل معاشی وائٹ پیپر تیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی خطے میں پاکستان کا دوسرے ممالک سے بھی موازنہ کیا ہے، خطے میں باقی ممالک میں مہنگائی کم ہے تو پاکستان میں زیادہ کیوں؟
محمد زبیر نے کہا کہ پریشان کُن بات سرمایہ کاری کی ہے، 50-50 سال سے آپریٹ کرنے والی کمپنیاں پاکستان سے واپس جا چکی ہیں، یہی کمپنیاں تا حال خطے کے دیگر ممالک میں موجود ہیں۔