سندھ ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے آئندہ سماعت پر کراچی کی یونیورسٹی روڈ مکمل ہونے کی تاریخ مانگ لی۔
سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کی سائٹ سیل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت میں عدالت نے استفسار کیا کہ یونیورسٹی روڈ کب مکمل ہوگی؟ عدالت کو بتایا گیا کہ مئیر، وزراء کہہ رہے ہیں کہ کنٹریکٹ ختم کردیا ہے۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ شہر کی مرکزی سڑک ہے، شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے، اگر کہیں اور یہ کنٹریکٹ ہوتا تو کب کا ختم ہوچکا ہوتا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی روڈ کب مکمل ہوگا آئندہ سماعت پر بتایا جائے۔
وکیل نے کہا کہ ساڑھے 3 ارب روپے دینے تھے وہ دیے نہیں اور کہتے ہیں راتوں رات منصوبہ بن جائے، معاہدہ زبردستی بیچ میں ختم کردیا جائے گا تو کنٹریکٹر اضافی رقم کا دعویٰ کرے گا۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے کہا کہ دنیا میں اس طرح کا کنٹریکٹ کہیں نہیں ہوتا، جسٹس سلیم جیسر بولے وقت پر کام کیوں نہیں کیا، اہم سوال یہ ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سی ای او ٹرانس کراچی کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ 2028 میں مکمل ہوگا، جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ تاخیر کس کی وجہ سے ہوئی، اس پر کمیشن بنا دیں، ہمیں آپ کے معاہدے سے کچھ لینا دینا نہیں، ہمیں سڑک چاہیے۔
جسٹس سلیم جیسر نے ٹرانس کراچی کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثر تو عوام ہو رہے ہیں، آپ لوگوں کا کیا ہے۔