چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد کا کہنا ہے کہ 2 ماہ میں نئی رئیل اسٹیٹ ریفارمز آنے والی ہیں، رئیل اسٹیٹ ریفارم کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ ریفارمز کے بعد فائل سسٹم کا خاتمہ ہوجائے گا، رئیل اسٹیٹ ڈیولپر پر سب ذمہ داری ہوگی۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق ڈائگناسٹک رپورٹ مکمل طور پر بے بنیاد ہے، آئی ایم ایف کبھی بھی آپ کو کلین چٹ نہیں دے گا، 3 ماہ میں جو نیب نے ریکوری کی دنیا میں کسی نے نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل غیر سیاسی ہے؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کہاں سے فنڈنگ لیتی ہے، 800 بندوں سے کیسے پورے ملک کا سروے کر لیتے ہیں، جب ہم ریکوری کرتے ہیں نیب کچھ نہیں رکھتا، پورا پیسہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروایا جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کیخلاف اب بھی کیسز چل رہے ہیں مگر اب ہم پریس ریلیز جاری نہیں کرتے، ہم نے کئی کیس ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھیجے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے نزدیک ملزم کی بھی اتنی عزت ہے جتنی ہماری عزت ہے، ماضی میں نیب جو کرتا رہا موجودہ نیب اس سے اتفاق نہیں کرتا۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا کہ میں نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے کسی کو نہیں کہا۔