نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے عدالتوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) استعمال سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق عدالتوں میں اے آئی ججز کی معاونت کرے گی، تاہم فیصلے انسان ہی کریں گے۔
سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق اے آئی عدالتی فیصلوں کا متبادل نہیں، ججز ہی حتمی اتھارٹی ہوں گے۔
اعلامیہ کے مطابق قومی گائیڈ لائنز میں شفافیت، احتساب اور تعصب سے بچاؤ پر زور اور عدالتی نظام میں اے آئی کے استعمال کے لیے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو لازم قرار دیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق اے آئی کیس منیجمنٹ، قانونی تحقیق اور دستاویزات کی پروسیسنگ میں مدد فراہم کرے گی۔ ججز اور عدالتی عملے کی اے آئی سے متعلق تربیت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔
اعلامیہ کے مطابق گائیڈ لائنز تمام ہائیکورٹس کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں، ہائی کورٹس اپنی ضرورت کے مطابق اے آئی کے نفاذ کا طریقہ کار طے کریں گی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں یہ ایک بڑا سنگِ میل ہے۔