• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائیکورٹ کا وال چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز قانون کے مطابق ہٹانے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو قانون کے مطابق اپنے دائرہ اختیار میں وال چاکنگ اور بینرز ہٹانے کا حکم دیدیا ہے۔

عدالت عالیہ سندھ کے آئینی بینچ میں وال چاکنگ، پوسٹر اور پولز پر بینرز لگانے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے اس معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

وکیل درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے 2014ء میں سندھ ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ منظور کیا تھا۔

وکیل نے مزید کہا کہ ایکٹ کے مطابق پبلک پراپرٹی، سڑکوں اور دیواروں پر چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز لگانا جرم قرار دیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ 12 سال بعد بھی ٹاسک فورس تشکیل نہیں دی گئی ہے ایکٹ کے تحت جرمانے اور سزائیں مقرر کی جانی تھیں، آج تک نہ کوئی جرمانہ ہوا اور نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد حکومت اور بلدیاتی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے، قانون پر عملدرآمد میں ناکامی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

عدالت عالیہ سندھ نے مزید کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ صوبے بھر میں قانون پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ پیش کریں اور اینٹی ڈیفیسمنٹ ٹاسک فورس کے قیام اور پروگرام کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

عدالت نے درخواست کی سماعت تین ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔

قومی خبریں سے مزید