• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، اوگرا سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اوگرا سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

4 ارب 60 کروڑ روپے کی سگنیچر بونس کی غیر مجاز وصولی سے متعلق آڈٹ اعتراض سامنے آگیا۔ آڈیٹر جنرل حکام کے مطابق 2016 سے 2020 تک او جی ڈی سی ایل نے یہ غیر مجاز رقم بنائی۔

آڈٹ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ انتظامیہ کا موقف ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ او جی ڈی سی ایل عدالت کو دی گئی یقین دہانی کے باجود رقم وصول کرتی رہی۔ او جی ڈی سی ایل نے 5 ارب 19 کروڑ 30 لاکھ روپے سگنیچر بونس بطور آمدن ظاہر کیا۔

پی اے سی ذیلی کمیٹی نے معاملہ دوبارہ ڈی اے سی میں لے جانے کی ہدایت کر دی۔

او جی ڈی سی ایل میں رگ سیپم 12000 کی ہائرنگ میں بےضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ 

آڈٹ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ رگ سیپم کی ہائرنگ کا معاہدہ 3 ارب 25 کروڑ روپے سے زائد میں دیا گیا۔ آڈیٹر جنرل حکام کا کہنا ہے کہ اوپن ٹینڈرنگ کے بغیر ٹھیکا دینے پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

آڈٹ حکام کے مطابق پیٹرولیم شیئرنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسابقتی بولی کا عمل نظر انداز کیا گیا۔ اینی کمپنی کی جانب سے براہ راست سیپم کو تجویز کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ مارکیٹ ریٹ سے زائد قیمت پر رگ حاصل کرنے پر اعتراضات ہیں۔

کمیٹی کو بریف کیا گیا کہ او جی ڈی سی ایل نے مہنگے معاہدے پر پہلے اعتراض کیا، بعد میں منظوری دے دی۔

آڈٹ حکام کے مطابق یومیہ کرایہ عالمی مارکیٹ سے کہیں زیادہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے، یورپ سے کیپ ٹاؤن تک اضافی موبلائزیشن اخراجات بھی غیرضروری تھے۔ معاہدے کی لاگت مزید اضافہ سے 23.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

آڈیٹر جنرل حکام کے مطابق ڈی موبلائزیشن کی مد میں بھی اضافی اخراجات شامل کیے گئے۔

او جی ڈی سی ایل حکام کے مطابق قانون کے مطابق جو بھی پراسیس تھا اسے فالو کیا گیا تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے معاملہ نمٹا دیا۔

قومی خبریں سے مزید