ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے شروع کی جانے والی امریکی و اسرائیلی جنگ اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
اعلیٰ قیادت اور انفرااسٹرکچر کے نقصان کے باوجود ایران میں آج بھی حکومت و نظام وہی ہے جو 38 روز قبل تھا، ایران کا دفاع، اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات پر میزائل حملے اور آبنائے ہرمز کی ایک ماہ سے زائد بندش اس معرکہ آرائی میں ایران کی فتح کی عکاس ہے۔
اسرائیل کی ایما اور نیتن یاہو کی دیرینہ خواہش پر رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر تابڑ تور حملے شروع کیے، مقصد بظاہر کچھ اور لیکن حقیقت میں ایرانی حکومت و نظام کی بساط الٹنا تھا، اس اندھی جارحیت میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت سب سے زیادہ لرزہ خیز رہی، دیگر چوٹی کے قائدین میں علی لاریجانی، اسماعیل خطیب، علی شمخانی، محمد پاکپور، علی ناصر زادہ، عبدالرحیم موسوی، غلام رضا سلیمانی، بہنام رضائی، علی تنگ سیری اور ماجد خادمی شامل تھے۔
ایران نے نہ صرف مسلسل حملوں کا سامنا کیا، بلکہ اپنا ہر ممکن دفاع کرتے ہوئے جواب میں تل ابیب، حیفہ، دیمونہ، آرد، رمات، پاتہ تکوا، بنی براک، روش ہایین، رمات ہاشارون، گوش دان، کوسٹل پلین، سماریا اور ایلات پر طاق طاق کر نشانے لگائے۔
اس 36 روزہ جنگ میں ایران نے اردن کے علاوہ قطر میں امریکا کے العدید، کویت میں علی السالم، سعودی عرب میں پرنس سلطان، بحرین میں پانچویں امریکی بحری بیڑے یو اے ای میں الظفرہ بیسز کو نشانہ بنایا۔
عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق اس جنگ میں ایران نے آبنائے کو زبردست ہتھیار کے طور استعمال کیا، ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کرنا ہی موجودہ کشیدگی کا اختتام ہے۔