برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک اور نیدرلینڈز سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔
اعلامیے میں اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان کے رہنما بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس پیشرفت کو مثبت قرار دیا۔
مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور دیگر شراکت دار ممالک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں اور مسئلے کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بامعنی معاہدے کے لیے فوری پیشرفت ضروری ہے، جو ناصرف ایران کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی بلکہ خطے میں سیکیورٹی کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔
عالمی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جائیں تو ایک ممکنہ عالمی توانائی بحران کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ممالک اس مقصد کے حصول کے لیے امریکا اور دیگر شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور تمام فریقین سے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی اپیل کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔