لبنان میں اسرائیلی تازہ فضائی حملوں کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
لبنان کی سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی بمباری میں کم از کم 254 افراد شہید جبکہ 1,165 زخمی ہوئے ہیں، حملے بیروت، بقاع وادی، جبلِ لبنان، صیدا اور جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر کیے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی 2 مارچ سے جاری فوجی آپریشن کے بعد لبنان میں سب سے بڑی مربوط کارروائی تھی جس میں حزب اللّٰہ کے 100 سے زائد کمانڈ مراکز اور عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنان، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیل لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی لبنان کو جنگ بندی سے ’علیحدہ معاملہ‘ قرار دیا ہے جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی تازہ حملوں کے بعد لبنان کی میڈیکل تنظیم کے سربراہ الیاس شلیلا نے ملک بھر کے ڈاکٹروں سے فوری طور پر اسپتالوں میں خدمات انجام دینے کی اپیل کی ہے جبکہ بیروت کے بڑے اسپتالوں نے خون کے عطیات کی ہنگامی درخواست جاری کر دی ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے حملوں کو ’مکمل جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب حزب اللّٰہ نے کہا ہے کہ یہ حملے مزاحمت کے حق کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور اگر کارروائیاں جاری رہیں تو جنگ بندی متاثر ہو گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ لبنان کے معاملے پر ’غلط فہمی‘ پیدا ہوئی ہے تاہم اسرائیل مذاکرات کی کامیابی کے لیے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔
قطر نے حملوں کو ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے لبنان سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔
مصر نے کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے کو مکمل افراتفری کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
ترکیہ نے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا جائے اور یورپی یونین اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر نظرِ ثانی کرے۔
اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے حملوں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مزید جنگ کے پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے تباہی کو ’ہولناک‘ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس صورتِ حال پر بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے فوراً بعد لبنان میں حملوں نے خطے میں امن کی امیدوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر وسیع تنازع کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔