لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان میں براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوگیا، جنگ بندی ہی واحد حل ہے۔
اپنے بیان میں لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، اب تک مثبت جواب ملا ہے، موجودہ صورتحال کا واحد حل اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ جلد براہ راست بات چیت کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اپنے بیان میں نیتن ہاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ’جلد از جلد‘ لبنان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنان کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کے بار بار مطالبات کے پیشِ نظر میں نے کل کابینہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست مذاکرات شروع کرے۔
لبنان نے اسرائیل کے حملوں کو فوری ختم کروانے پر پاکستان سے تعاون مانگ لیا۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کی اور لبنان میں ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی امن کےلیے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے۔ اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق لبنانی وزیراعظم نے وزیراعظم شہبازشریف کی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ لبنان پر حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا دیں گے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کے حملوں سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ، ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے دھوکہ دہی کی خطرناک علامت ہیں، جارحیت جاری رہی تو مذاکرات بے معنی ہوجائیں گے، ہماری انگلیاں ٹریگر پر رہیں گی، ایران اپنے لبنانی بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کروانے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد افراد کی شہادت پر ملک بھر میں آج یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔ لبنان پر گذشتہ روز اسرائیلی حملوں سے ایک ہی روز میں 203 افراد شہید اور 1 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔