ارسطو نے سیاست کی حکمرانی پر خاصا زور دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ قانون کی برتری سے ریاست میں انصاف کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ بڑے ملک کا سربراہ جودوسرے چھوٹے ملکوں کو تڑی دیتا ہوا،ایران جیسے مہذب ملک کےلوگوں کو گالیاں دے کر ، اپنے ملک کے ہزاروں لوگوں کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ شرمسار ہے اور نہ اس کو غلط، غیر قانونی اور ناانصافی پر مبنی کہہ رہا ہے۔ وہ تو ایک دن میں فرعون بنا سات ہزار سالہ تہذیبی مرکز ایران کو جہنم بنا دینے کے فیصلے پر فخر کررہا تھا۔ یہ بھی کہتا ہے کہ میں خدا کو مانتا ہوں اور گڈ فرائی ڈے کو ایرانیوں نے ہمارے دو جہاز گرائے، ایک پائلٹ جو پہاڑوں میں پھنس کر زندہ بچا تھا، اس کو امریکی اٹھاکر لے گئے۔ ٹرمپ تو انصاف اور علم کو کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ شاید اپنی بے عقلی اور جنونیت میں مسلمانوں سے عصبیت کو ظلم کی انتہا پر پہنچا کر ہی اس کو چین آئے گا۔ ظلم کی جتنی صورتیں ہوتی ہیں، وہ ان کو آزماکر اسکول کی بچیوں سے یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو مارنے تک۔ میک بتھ کی طرح اپنے ہاتھوں پر ان کاخون دیکھ کر فخریہ بیان بھی کرتا ہے مگر اس ایک مہینے میں ایران کی علمی، ذہنی اور فوجی برتری کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھ رہا۔
اللہ نے انسان میں خیر اور شر کے دونوں پہلو رکھے ہوئے ہیں، شر انسان نہیں ٹرمپ کے زیادہ قریب ہے۔ پہلے دور میں بھی اس نے کوئی نمایاں کام نہیں کیا تھا اور اب تو پہلے سال میں ہی یہ زعم اس پر حاوی رہا اور ہر جگہ اپنے کارناموں کو دنیا بھر کے سامنے بیان کرتے کرتے اس مقام پر پہنچا کہ نیتن یاہو جیسے بد باطن شخص کیساتھ ملکر ایران پر حملہ آور ہوا۔ ایران کے عالموں، معلموں اور امورِمملکت چلانیو الوں کو مع آیت اللہ صفحہ ہستی سے مٹاکر خوش رہا۔
ٹرمپ اس ایک ماہ میں سوچتا رہا کہ ایران مختلف پارٹیوں میں بٹ جائے گا اور ٹرمپ کی پسند کی حکومت قائم ہوجائیگی۔ اسے خبر نہ تھی کہ47 سال میں ایران، مذہبی، معاشی اور سیاسی طور پر کتنا مستحکم ہوچکا تھا۔ ایرانیوں نے اعراف سلطنت کو وسعت دینے کی بجائے حکومت کے مرکز کو مستحکم کیا۔ ہر چند ان 47 سال میں بہت روشن خیال لوگوں کو پھانسیاں بھی دی گئیں۔ نظام حکومت کو شرعی قوانین اور بنیادوں پر استوار کیا۔ سیاست کے عقلی نظام میں وہ روشنی موجودنہیں جو دین پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں آزادی اظہار پر پابندیوں اور آج کی اہم ضرورت انٹر نیٹ پر محدود رسائی، اخبارات اور خواتین کو مناسب آزادیاں نہ دینے پر بہت اعتراضات مسلسل ہوتے رہے۔ مجھے بھی دو دفعہ شعری محافل کے لیے بلایا گیا مگر میں نے انکار اس لیے کیا کہ میں کسی کے حکم پر سر پر دوپٹہ نہیں اوڑھ سکتی ۔ پاکستان میں بھی ضیاء الحق نے عورتوں کو دفتر اور ٹیلی وژن پر دوپٹہ اوڑھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ہم روشن خیال عورتوں نے پروگراموں میں حصہ نہیں لیا اور دفتروں میں چادریں اوڑھ کر آنے کو بھی مذہبی اور قانونی طور پر رد کیا۔ خیر یہ تو 30 برس پہلے کے حالات تھے۔ آج کل پولیس، فوج اور خلا میں سفر تک خواتین کررہی ہیں۔ شاید ایران میں ٹرمپ کے مظالم سے تنگ آکر ایک نیا زاویہ تو سامنے آیا کہ خواتین نے کفن پہن کر جلوس نکالا۔ اگر امریکہ و اسرائیل زمینی لڑائی کے لیے آگے آتے تو مرد اور عورتوں، دونوں نے ہر اول دستہ بننے کی تیاری شروع کردی تھی۔
البتہ کسی بھی ریاست میں اتنی لچک نہیں ہوسکتی، جتنی چاہیں وسعت دے سکیں۔ اس کے پھیلائو اور اسےمستحکم بنانے میں عسکری طور پر ایران نے بہت سنجیدگی سے کام کیا۔ یہ الگ بات بہت سے شعبوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ ایرانی قوم کو وطن کی عزت کرنےکا درس دیا گیا اور چند ماہ پہلے توآیت اللہ نے شاعرات کو بلاکر ان کا کلام بھی سنا تھا۔ یہ معلوم نہیں کہ و ہ کلام کیسا تھا مگر افتخار عارف، ایران سے جو مجلہ کتاب شعر لائے تھے۔ اس میں خوب صورت شاعری تھی۔
موجود لمحے میں جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔دوہفتےکی عارضی جنگ بندی ہوئی ہے۔ مقابلہ ایرانی قوم کا اس شخص سے ہے، جس کے ملک کے ہر شہر میں اس کے خلاف جلوس نکل چکے ہیں۔ ایران کی آبادی 9 کروڑ ہے اور پاکستان کی 25 کروڑ مگر صنعتی طور پر فولاد کی پیداوار میں پہلے نمبر پر جرمنی ہے اور دوسرے نمبر پر ایران ہے ۔ خلیجی ممالک بہت مال دار ہیں، مگر ترقی ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ ایران کے ساتھ اسپین، اٹلی اور انگلینڈ نے دوستی نبھائی۔ نیٹو ملکوں نے بھی ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا۔ ایرانی قوم کے حوصلے کی ساری دنیا معترف ہے اور خدا کو بھی معلوم ہے کہ ٹرمپ کیاکررہا ہے۔ خدا کرے کہ ایران جنگ سے متعلق چینی سفارت کاری اور آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی ضد اور دھمکیاں ان شاء اللہ اپنی موت آپ مر جائیں کہ طاقت کے استعمال سے ہیروشیما ایک دفعہ بم مارنے سے ختم ہوا، مگر پوری جاپانی قوم نے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔ ایران کو تباہ کرنے کی ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے مقابلے کے لیے ساری دنیا کی امن پسند اقوام بھی خدا کے حکم کی منتظر تھیںشکر ہے عارضی جنگ بندی ہوئی۔ جو کچھ امریکہ کررہا ہے خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔